مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوتے ہوئے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع اب دوسرے مہینے میں داخل ہو چکا ہے، اور اس کے اثرات صرف براہِ راست فریقین تک محدود نہیں رہے بلکہ اردگرد کے ممالک بھی اس کے دائرہ اثر میں آتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ترکیہ نے نہ صرف اپنی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی سطح پر بھی سرگرمی تیز کر دی ہے۔
ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے انقرہ میں پارلیمنٹ کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ حالات معمولی نہیں بلکہ انتہائی حساس نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ کے دائرہ کار میں توسیع کا خطرہ حقیقی ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازع مزید ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ اس صورتحال کو نہایت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ خود کو اس بحران کے براہِ راست اثرات سے محفوظ رکھ سکے۔
ایردوآن نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح قومی سلامتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کسی بھی صورت میں جنگ کا حصہ بننے کا متحمل نہیں ہو سکتا، اسی لیے تمام تر اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں کہ ملک اس کشیدہ صورتحال سے بغیر نقصان کے باہر نکلے۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ حکومت دفاعی اور سفارتی دونوں محاذوں پر بیک وقت متحرک ہے۔
اسی دوران ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ترک وزارتِ دفاع نے انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل ترکیہ کی فضائی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔ اس خطرناک صورتحال کے پیش نظر نیٹو کے فضائی و میزائل دفاعی نظام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس میزائل کو مشرقی بحیرہ روم کے قریب تباہ کر دیا۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ کے اثرات اب سرحدوں سے باہر نکل کر دیگر ممالک تک پہنچ رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہو۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد اب تک اس نوعیت کے چار واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں بھی تین مرتبہ میزائل روکنے کی کارروائیاں کی گئیں، جس پر ترکیہ نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایران سے وضاحت طلب کی تھی۔ انقرہ نے ان واقعات کو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
دوسری جانب ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان میزائلوں کے داغے جانے کے احکامات اس کی جانب سے جاری نہیں کیے گئے۔ تہران نے اس معاملے پر شفافیت کے لیے ترکیہ کو مشترکہ تحقیقات کی پیشکش بھی کی، تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ اس پیشکش کے باوجود خطے میں اعتماد کا فقدان اور کشیدگی برقرار ہے۔
ان مسلسل واقعات کے بعد نیٹو نے بھی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے ترکیہ کے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اضافی دفاعی اقدامات کے تحت جدید ٹیکنالوجی اور نگرانی کے نظام کو فعال کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ مغربی اتحاد بھی اس صورتحال کو سنجیدہ خطرہ سمجھ رہا ہے۔
صدر ایردوآن نے اپنے خطاب میں اس پہلو پر بھی روشنی ڈالی کہ ترکیہ خطے میں امن کے قیام کے لیے متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق انقرہ صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے سفارتی مشن پر بھی کام کر رہا ہے، جس کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہر ممکن سفارتی راستہ اختیار کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انقرہ مسلسل ایران، امریکہ اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ کسی ممکنہ بڑے تصادم کو روکا جا سکے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات کے باوجود مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، اور اگر سنجیدہ کوششیں کی جائیں تو سفارتی حل اب بھی ممکن ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نہایت پیچیدہ اور نازک ہے۔ ایک طرف براہِ راست جنگ جاری ہے تو دوسری جانب اس کے اثرات خطے کے دیگر ممالک کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ ترکیہ جیسے اہم علاقائی کھلاڑی کی پوزیشن اس وقت انتہائی حساس ہے، جہاں اسے اپنی سلامتی کے ساتھ ساتھ خطے کے استحکام کو بھی مدنظر رکھنا پڑ رہا ہے۔
یہ صورتحال اس امر کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات جغرافیائی حدود سے کہیں آگے تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسے میں سفارتکاری، دفاعی تیاری اور علاقائی تعاون ہی وہ عوامل ہیں جو کسی بڑے بحران کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
