ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ خطے میں سمندری نظام میں ممکنہ تبدیلی کی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ کا حکومت کی تبدیلی کا خواب پورا ہو جائے گا۔
ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز یقیناً دوبارہ کھلے گی، لیکن امریکا کیلئے نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز اب صرف ان ممالک اور جہازوں کیلئے کھولی جائے گی جو ایران کے نئے قوانین کی پاسداری کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 47 برسوں کی مہمان نوازی اب ہمیشہ کیلئے ختم ہو چکی ہے۔
ادھر ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جو خطے میں سمندری تجارت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے، اور اس حوالے سے ایران کے کسی بھی نئے اقدام سے عالمی منڈیوں، خصوصاً تیل کی فراہمی پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے سخت بیانات اور ممکنہ اقدامات خطے میں بڑھتی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں
