ایران نے حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل پر مشترکہ میزائل حملے کیے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ کے 33ویں روز ایران نے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران سب سے بڑی میزائل کھیپ اسرائیل کی جانب داغی، جس کے نتیجے میں شمالی، وسطی اور جنوبی اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق تل ابیب اور حیفہ کی جانب میزائل فائر کیے گئے، جبکہ لبنان سے ہونے والے حملے میں کریات شمونہ میں ایک عمارت کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ فوج کے مطابق ان حملوں میں ایرانی حکومت کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اصفہان کے علاقے شاہین شہر اور مغربی تہران میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ فضائی حملوں کے بعد مختلف علاقوں میں سیاہ دھوئیں کے بادل چھا گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق تہران کے مختلف علاقوں، خصوصاً ریجن 22 میں پاسداران انقلاب کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک ہیلی کاپٹر فیکٹری پر بھی حملہ کیا گیا۔
ادھر اسرائیلی فضائی دفاعی نظام نے کئی ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جن کی آوازیں دمشق تک سنی گئیں۔
اسی دوران جنگ بندی کی سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی نئی قیادت نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیکزاد نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے، جبکہ امریکا کی جانب سے دی گئی مہلت اور ممکنہ معاہدے کے باوجود صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری یہ جنگ اب ایک وسیع علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ بھی پوری شدت سے سرگرم ہے، تاہم فوری جنگ بندی کے امکانات ابھی بھی غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں
