ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں جاری امریکی فوجی کارروائیاں بہت جلد ختم کر دی جائیں گی، جبکہ وہ آج بدھ کی رات قوم سے اہم خطاب بھی کریں گے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فضائی مہم جاری ہے، تاہم اس کے ساتھ ایران کے ساتھ بات چیت بھی کی جا رہی ہے، اور امکان ہے کہ یہ کارروائیاں دو سے تین ہفتوں میں مکمل ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اپنا مشن مکمل کرنے کے قریب ہے اور ممکنہ طور پر دو ہفتوں کے اندر یہ مرحلہ ختم ہو سکتا ہے۔
تیل کی بڑھتی قیمتوں سے متعلق سوال پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جیسے ہی امریکا ایران سے نکلے گا، عالمی منڈی میں قیمتیں خود بخود کم ہو جائیں گی۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا امریکی انخلا کیلئے لازمی شرط نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا کو یقین ہو گیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں رہا تو وہ وہاں سے نکل جائے گا، چاہے کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اعلان کیا ہے کہ صدر ٹرمپ بدھ کی رات قوم سے خطاب کریں گے، جس میں ایران جنگ کے حوالے سے اہم اپ ڈیٹ دی جائے گی۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی یہ جنگ اب اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
اس تنازع کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہونے سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، اور قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ امریکا جنگ کے خاتمے کی بات کر رہا ہے، تاہم خطے کی مجموعی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور آئندہ دنوں میں حالات کا رخ اہم ہوگا
