شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور جنگ بندی کیلئے اقدامات تاحال جاری ہیں۔
اسلام آباد میں خطے کی موجودہ صورتحال پر اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں، جس کے باعث ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے متحرک ہیں اور سفارتی سطح پر انتھک کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے خطے میں جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
شہباز شریف نے ایک اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دو تجارتی جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے تھے، تاہم حکومتی کوششوں کے نتیجے میں وہ بحفاظت وہاں سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ جنگی صورتحال کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر چیلنجز کا مقابلہ کر رہی ہیں، اور وزرائے اعلیٰ نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی ہے تاکہ وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکے، جبکہ پارلیمنٹیرینز نے بھی تیل کی بچت کیلئے اقدامات کیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی یہ سفارتی اور معاشی حکمت عملی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش ہے، تاہم حالات کے پیش نظر مزید چیلنجز کا سامنا بھی ہو سکتا ہے
