اقوام متحدہ: خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم البداوی نے پہلی بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اہم بریفنگ دیتے ہوئے ایران کی جانب سے 28 فروری سے جاری حملوں پر شدید ردعمل دیا ہے اور انہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق جاسم البداوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایرانی حملوں میں خلیجی ممالک کی حساس تنصیبات، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو نہ صرف خودمختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی پامالی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں اور یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
جاسم البداوی نے خبردار کیا کہ اس کشیدگی کے اثرات اب صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی سطح پر اس کے منفی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق سمندری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث عالمی تجارت بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جبکہ تیل، گیس، کھادوں اور پیٹروکیمیکلز کی سپلائی میں بھی شدید خلل پیدا ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہم بحری گزرگاہوں میں رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن چکی ہے،توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ رہا ہے،سپلائی چینز دباؤ کا شکار ہیں
جی سی سی کے سربراہ نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کے مکمل نفاذ پر زور دیا اور کہا کہ ذمہ دار عناصر کو ہر صورت جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ بحران کا دیرپا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
جاسم البداوی کے مطابق جی سی سی ہمیشہ امن، استحکام اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کا حامی رہا ہے اور آئندہ بھی اسی پالیسی پر قائم رہے گا۔
یہ اہم بریفنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بحرین نے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالی ہے۔ جاسم البداوی نے اس اجلاس کو اقوام متحدہ اور جی سی سی کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک نئی شروعات ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے عالمی طاقتوں کو خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
