کراچی: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے پر جاری بحث کے دوران گورنر سندھ نے واضح کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کا نہیں بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا نتیجہ ہے۔
کینٹ اسٹیشن پر سکھر ایکسپریس کی جدید ریفربشڈ کوچز کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت مشکل معاشی حالات کے باوجود اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے کام کر رہی ہے اور عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کر کے عوام پر اضافی بوجھ کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ ملکی قیادت خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے بھرپور سفارتی اقدامات کر رہی ہے۔
دوسری جانب صوبائی وزیر نے بھی صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کافی عرصے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بڑا حصہ خود برداشت کر رہی تھی تاکہ عوام کو فوری ریلیف دیا جا سکے، تاہم اگر تمام بوجھ عوام پر منتقل کر دیا جائے تو پیٹرول کی قیمت 600 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اخراجات میں کمی کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں نمایاں کمی، ایندھن کی بچت اور تنخواہوں میں کٹوتی شامل ہے۔ ناصر حسین شاہ نے خبردار کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے اثرات طویل عرصے تک ملکی معیشت پر پڑ سکتے ہیں، تاہم حکومت ان چیلنجز سے نمٹنے اور عوام کو ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
