امریکا میں اعلیٰ سطح پر بڑی انتظامی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے پام بونڈی کی جگہ نائب اٹارنی جنرل ٹوڈ بلینچ کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کر دیا ہے، جسے امریکی عدالتی نظام میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیٹھ نے بھی عسکری قیادت میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق وزیر جنگ ایک ایسے آرمی چیف آف اسٹاف کی تقرری چاہتے ہیں جو فوجی معاملات میں صدر ٹرمپ اور ان کے وژن کے مطابق پالیسیوں پر عملدرآمد یقینی بنا سکے۔
رپورٹس کے مطابق جنرل رینڈی جارج کا شمار تجربہ کار فوجی افسران میں ہوتا ہے، جو ماضی میں سابق وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے دور میں سینئر ملٹری اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ پہلی خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی پالیسیوں اور وژن کے مطابق اداروں کی تشکیل نو کر رہی ہے، جس کے اثرات نہ صرف امریکا کی داخلی سیاست بلکہ عالمی سطح پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
