فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مسلمانوں کے سالانہ اجتماع پر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس نے یورپ میں مذہبی آزادی اور سیکیورٹی کے توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق یہ پابندی لے بورژے ایگزیبیشن سینٹر میں 3 سے 6 اپریل تک منعقد ہونے والے فرانس میں مسلمانوں کے 40ویں سالانہ اجتماع پر لگائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ پیرس کے پولیس چیف نے وزیر داخلہ لوراں نونیز کی درخواست پر کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک ایسے حساس قومی و بین الاقوامی ماحول میں اٹھایا گیا ہے جہاں سیکیورٹی خدشات، دہشت گردی کے ممکنہ خطرات اور بدامنی کے امکانات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق آنے والے دنوں میں شہر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب اجتماع کے منتظم ادارے کے سربراہ مخلوف مامیچ نے پابندی کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تنظیم اس اقدام کے خلاف قانونی اپیل دائر کرے گی۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے فیصلے مذہبی آزادی کو متاثر کرتے ہیں اور انہیں عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر امریکا اسرائیل ایران تنازع کے باعث دنیا بھر میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں، جن کے اثرات یورپی ممالک میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فرانس کا یہ اقدام سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے اہم ہو سکتا ہے، تاہم اس کے سماجی اور سیاسی اثرات پر بحث جاری رہے گی، خصوصاً مسلم کمیونٹی کے حوالے سے

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment