امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکی دے دی ہے۔
امریکی صدر نے جمعے کے روز سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی فوج نے ابھی ایران میں باقی ماندہ اہداف کو تباہ کرنا شروع نہیں کیا، اور آئندہ کارروائیوں میں پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قیادت جانتی ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے اور اسے جلد فیصلہ کرنا ہوگا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائیٹرزکے مطابق ٹرمپ نے اس سے قبل تہران اور اس کے مغرب میں واقع شہر کرج کو ملانے والے ایک اہم پل پر حملے کی بھی تعریف کی تھی اور ایران پر زور دیا تھا کہ وہ "دیر ہونے سے پہلے کسی معاہدے پر پہنچ جائے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ایک ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کا ایک بڑا پل تباہ ہو چکا ہے اور اب اسے دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر بروقت معاہدہ نہ کیا گیا تو ملک کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق "بی 1” نامی اہم پل، جو جدید انجینئرنگ کا شاہکار سمجھا جاتا ہے، امریکی حملوں میں نشانہ بنا۔ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 95 زخمی ہوئے۔
امریکی حکام نے ایک ویب سائٹ کو بتایا کہ اس پل کو نشانہ بنانے کی وجہ یہ تھی کہ اسے تہران سے مغربی ایران تک میزائلوں کی ترسیل اور فوجی لاجسٹک مدد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
ایران کے صوبہ البرز کے حکام نے شہریوں کو متاثرہ پل سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ اسے ایک گھنٹے کے اندر دو مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق دوسرا حملہ اس وقت ہوا جب امدادی ٹیمیں پہلے حملے کے متاثرین کی مدد میں مصروف تھیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق نشانہ بنایا گیا پل مشرقِ وسطیٰ کے بلند ترین پلوں میں شمار ہوتا ہے، جس کا افتتاح رواں سال کے آغاز میں کیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان یہ کشیدگی مزید بڑھی تو نہ صرف خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
