تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے امریکا کے جدید لڑاکا طیارے کو مار گرایا اور اس کے پائلٹ کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی طیارہ ایران کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا، جسے فوری کارروائی کرتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق طیارہ گرنے کے بعد پائلٹ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ادھر امریکی افواج کی جانب سے پائلٹ کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں، جن میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں اور سی ایک سو تیس ہرکولیس طیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم اب تک پائلٹ کی بازیابی ممکن نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب امریکی حکام نے لڑاکا طیارہ گرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عملے کی تلاش جاری ہے، تاہم انہوں نے پائلٹ کی گرفتاری کے دعوے پر کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جاری جنگ پینتیسویں روز میں داخل ہو چکی ہے اور حملوں کا دائرہ دارالحکومت تہران اور اس کے گرد و نواح تک پھیل چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران کے طبی تحقیقاتی مراکز، صنعتی تنصیبات اور ایک اہم پل کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ مذکورہ پل فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا تھا، جبکہ ایران نے اسے شہری ڈھانچے کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں جاری تنازع کو مزید سنگین بنا سکتا ہے اور اس کے عالمی سطح پر سکیورٹی اور توانائی کے حالات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے
