ہفتے کے روز ایران کے وزیرِ خارجہ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم X پر ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ امریکی ذرائع ابلاغ ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی سطح پر پھیلائی جانے والی یہ تشریحات حقیقت کی درست عکاسی نہیں کرتیں اور اس سے صورتحال کے بارے میں ابہام پیدا ہو رہا ہے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے خاص طور پر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کی سفارتی کوششوں کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ایران نے کبھی اسلام آباد جانے یا پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران ہمیشہ سے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کا حامی رہا ہے اور پاکستان کے ساتھ رابطوں کو مثبت انداز میں دیکھتا ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ایران کی اصل ترجیح کسی مقام یا رسمی ملاقات سے زیادہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جاری تنازع کا ایک مستقل اور حتمی حل نکالا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس جنگ کو غیر قانونی اور زبردستی مسلط کردہ سمجھتا ہے، اس لیے وہ ایسے حالات اور شرائط چاہتا ہے جو اس تنازع کے مکمل اور دیرپا خاتمے کی ضمانت دے سکیں، نہ کہ وقتی یا عارضی حل۔
عباس عراقچی کے بیان میں یہ پیغام بھی واضح تھا کہ بین الاقوامی میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق کو درست انداز میں پیش کرنا چاہیے، کیونکہ غلط بیانی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور ممالک کے درمیان اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی اور خیرسگالی کا اظہار کرتے ہوئے “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ لگایا، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات اور باہمی احترام کی علامت ہے۔
