امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دھمکی آمیز اور سخت بیانات پر ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سینیئر مشیر علی اکبر ولایتی نے خبردار کیا ہے کہ مزاحمتی محاذ کی متحدہ کمان باب المندب کو بھی آبنائے ہرمز کی طرح اسٹریٹجک اہمیت دیتی ہے، اور اگر امریکا نے کوئی “غلطی” دہرائی تو عالمی توانائی اور تجارت کا بہاؤ ایک ہی وار میں مفلوج کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی عدلیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی مزاحمت نے ٹرمپ کو “بوکھلاہٹ اور غیر متوازن رویے” کا شکار بنا دیا ہے، جس کے باعث وہ غیر اخلاقی اور توہین آمیز زبان استعمال کر رہے ہیں۔
ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپنے عوام کی فلاح قربان کر کے دوسروں کو دھمکانے والا شخص “پتھر کے دور میں سوچنے” پر مجبور ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جنگی جرائم کے ذریعے کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا، اور امریکا کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات پورے خطے کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی پالیسیوں پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا اثر ہے، جس کے باعث صورتحال مزید بگڑ رہی ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے عالمی ادارے کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کا ضمیر زندہ ہوتا تو وہ ایسے بیانات پر خاموش نہ رہتا۔ ایرانی مشن کے مطابق ایران کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں کھلے عام جنگی جرم کی نیت ظاہر کرتی ہیں، اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ اسے فوری روکا جائے۔
پاکستان میں ایرانی سفارت خانے نے بھی امریکا سے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے رویے کو غیر متوازن قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کی شہری تنصیبات، خصوصاً پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اور ملک کو “قیامت جیسے حالات” کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ اب خطرناک رخ اختیار کر چکی ہے، اور اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو یہ تنازع عالمی سطح پر توانائی بحران اور بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے
