اسرائیل میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے خلاف عوامی ردعمل شدت اختیار کر گیا، جہاں سینکڑوں افراد پابندی کے باوجود سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں “بمباری نہیں، بات کرو” اور “نہ ختم ہونے والی جنگ ختم کرو” جیسے پلے کارڈز موجود تھے، جو عوامی بے چینی کی واضح عکاسی کر رہے تھے۔
مظاہرین نے نہ صرف ایران بلکہ لبنان، غزہ اور مغربی کنارہ میں جاری کارروائیوں اور تشدد کو بھی فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کی جانب سے پہلے ہی عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود بڑی تعداد میں شہریوں کی شرکت نے حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مظاہرے اس بات کا اشارہ ہیں کہ اسرائیل کے اندر بھی جنگی پالیسیوں کے خلاف اختلافی آوازیں بڑھ رہی ہیں، جو آنے والے دنوں میں سیاسی دباؤ میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔
