خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں خورفکان بندرگاہ پر پیش آنے والے واقعے نے صورتحال کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا ہے، جہاں ایک روکے گئے حملے کے ملبے کے گرنے سے چار افراد زخمی ہو گئے، جن میں تین پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت پاکستان اپنے شہریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
اماراتی خبر رساں ادارے وام کے مطابق دفاعی نظام نے ایک ممکنہ حملے کو بروقت ناکام بنایا، تاہم اس کے نتیجے میں گرنے والے ملبے نے شہری علاقے کو متاثر کیا، جس سے ایک نیپالی شہری سمیت چار افراد زخمی ہو گئے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر اماراتی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نازک حالات میں خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے کے لیے تحمل اور دانشمندی ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری سے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک مسلسل خطرات کی زد میں ہیں، اور حالیہ دنوں میں میزائل و ڈرون حملوں کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق خورفکان کا واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جنگ کے اثرات اب سرحدوں تک محدود نہیں رہے بلکہ شہری آبادی بھی اس کی زد میں آ رہی ہے، جس سے نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی سلامتی کو بھی چیلنج درپیش ہے
