اسلام آباد میں پاکستان اور ترکی کے درمیان عدالتی تعاون کی یادداشت (MoU) پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جس کا مقصد دونوں ملکوں کی عدلیہ کے درمیان تربیت، بہترین طریقہ کار کے تبادلے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔
یادداشت پر دستخط چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور ترکی کی آئینی عدالت کے صدر نے کیے۔ تقریب کے دوران دونوں فریقین نے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر بھی اتفاق کیا تاکہ عدالتی تجربات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ترکی کے اعلیٰ عدالتی وفد کا پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترک وفد کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور تاریخی تعلقات کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت دونوں ملکوں کی عدلیہ کے لیے اہم ہے اور عدالتی کارروائی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے ترکیہ ایک مثال ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے عدالتی تجربات سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔
چیف جسٹس آئینی عدالت ترکیہ نے کہا کہ پاکستان آ کر بہت خوشی ہوئی، آج کا دن دونوں ملکوں کے عدالتی نظام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اللہ کی حاکمیت پر یقین رکھتے ہوئے عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف عدالتی نظام کی استعداد بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ پاکستان اور ترکی کے برادرانہ تعلقات کو بھی نئی جہت دے گا۔
