امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ہنگامی نیوز کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے اندر ایک غیر معمولی فوجی آپریشن کامیابی سے انجام دیتے ہوئے اپنے ایک پائلٹ کو بحفاظت واپس لا لیا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس خفیہ مشن میں تقریباً 200 امریکی فوجیوں نے حصہ لیا، جبکہ جنگی طیاروں اور دیگر فضائی اثاثوں کو بھی استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن امریکی فوج کی تاریخ کے اہم ترین مشنز میں سے ایک ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود اس آپریشن کا حکم دیا، جس کے تحت امریکی طیارے ایران کی حدود میں داخل ہوئے اور پائلٹ کی تلاش کے بعد اسے بحفاظت نکال لیا گیا۔ ان کے مطابق اس دوران امریکی فوجیوں کو شدید فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آپریشن کے دوران بعض طیاروں کو نقصان بھی پہنچا، لیکن انہیں محض چند منٹوں میں دوبارہ فعال کر دیا گیا۔ صدر کے مطابق ریسکیو مشن کے دوران دو کارگو طیاروں کو، جو ریت میں پھنس گئے تھے، اڑا دیا گیا تاکہ مشن کو خفیہ رکھا جا سکے۔
امریکی صدر نے اپنی فوج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن میں جدید امریکی طیاروں نے غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج ایران میں 10 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے ایران کو خبردار کیا کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو امریکا “ایک رات میں ایران کو تباہ” کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان سے نہ صرف خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست تصادم کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، جو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
