محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ 10 نکاتی منصوبے کے اہم نکات کی بات چیت سے قبل ہی خلاف ورزی کر دی گئی ہے، جس کے باعث موجودہ صورتحال میں جنگ بندی یا مذاکرات غیرمعقول دکھائی دیتے ہیں۔
اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فضائی حدود میں ڈرون کی دراندازی کی گئی، ایران کے یورینیئم افزودگی کے حق کو تسلیم نہیں کیا گیا، جبکہ لبنان میں بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان حالات میں دو طرفہ جنگ بندی یا بامعنی مذاکرات کی گنجائش کم ہو گئی ہے اور پہلے اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔
دوسری جانب امریکا کے نائب صدر نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قالیباف کا پیغام دیکھا ہے، تاہم ان کے مطابق یہ دراصل 15 نکاتی منصوبہ ہے اور اگر صرف تین نکات پر اختلاف ہے تو یہ مثبت بات ہے کہ باقی امور پر دونوں فریقین کے درمیان اتفاق پایا جاتا ہے۔
امریکی نائب صدر نے اشارہ دیا کہ اختلافات کے باوجود مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جا سکتا ہے، کیونکہ کئی اہم نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بیانات کی یہ جنگ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سفارتی عمل ابھی نازک مرحلے میں ہے، جہاں معمولی پیش رفت بھی بڑی کامیابی جبکہ چھوٹی رکاوٹ بھی بڑے تعطل کا سبب بن سکتی ہے
