تہران میں مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیل کے حالیہ حملے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جو خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
مسعود پزشکیان نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان پر حملے جاری رہے تو جنگ بندی مذاکرات بے معنی ہو جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران لبنانی عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گا۔
انہوں نے اسرائیلی کارروائیوں کو “دھوکا دہی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممکنہ معاہدوں سے وابستگی کی کمی کی ایک خطرناک علامت ہے، جو خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران بھر میں آیت اللہ خامنہ ای کے چہلم کے سلسلے میں بڑے اجتماعات منعقد ہوئے، جہاں عوام نے بھرپور شرکت کی۔ اصفہان کے تاریخی نقشِ جہاں اسکوائر پر ہزاروں افراد نے اجتماعی طور پر قومی ترانہ پڑھا، جس سے پورا علاقہ گونج اٹھا اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔
علاقائی سفارتکاری کے تناظر میں رجب طیب اردوان نے مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں ہونے والے امریکا اور ایران کے مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے بھرپور طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا سخت مؤقف اور ترکی کی سفارتی سرگرمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں صورتحال بدستور نازک ہے، جہاں ایک جانب کشیدگی بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب امن کیلئے سفارتی کوششیں بھی تیز ہو رہی ہیں
