ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے، جس کے بعد خطے میں سفارتی غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ امریکی مطالبات کو قرار دیا جا رہا ہے، جنہیں تہران نے “حد سے زیادہ” اور ناقابلِ قبول قرار دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان مطالبات نے مشترکہ فریم ورک کی تشکیل اور کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی۔
ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایران کے جوہری حقوق مذاکرات کے اہم ترین اور متنازع نکات رہے، جن پر دونوں فریقین کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے۔
ایرانی میڈیا نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا نے مذاکرات میں ایسی شرائط پیش کیں جو وہ جنگ کے دوران حاصل نہیں کر سکا تھا، جس کے باعث اعتماد کی فضا متاثر ہوئی اور پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔
تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال میں فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس ناکامی نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو دھچکا پہنچایا ہے بلکہ مستقبل میں کسی بھی سفارتی پیش رفت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں اب آئندہ ممکنہ مذاکرات یا متبادل سفارتی راستوں پر مرکوز ہو گئی ہیں
