اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں اہم موضوعات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس کے نتیجے میں بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، تاہم دو سے تین نکات پر اختلاف تاحال برقرار ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ کسی ایک نشست میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کی توقع غیر حقیقت پسندانہ ہے، اور نہ ہی کسی فریق کو اتنی جلدی کسی نتیجے کی امید تھی۔ ان کے مطابق مذاکرات میں زیر بحث امور نہایت پیچیدہ ہیں، جبکہ کچھ نئے موضوعات بھی شامل کیے گئے ہیں، جس کے باعث بات چیت کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا، اور ایران سفارتی محاذ پر اپنے قومی مفادات اور حقوق کے حصول کیلئے بھرپور کوششیں جاری رکھے گا۔
اسماعیل بقائی نے پاکستان کی میزبانی اور مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، جس پر ایران شکر گزار ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات میں ایران کے خلاف جنگ کے مکمل خاتمے اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار دوسرے فریق کی سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے
