کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ تنقید کے باوجود جنگ کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور عالمی امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
پوپ لیو نے کہا کہ وہ کسی بھی بحث یا سیاسی تنازع میں الجھنا نہیں چاہتے، تاہم ان کا مؤقف واضح ہے کہ جنگ اور تشدد کے خلاف آواز اٹھانا ان کی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے، جس سے وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ممالک کے درمیان مکالمہ، سفارت کاری اور کثیرالجہتی تعلقات کو فروغ دیا جائے تاکہ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔
کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج دنیا کے مختلف حصوں میں لاکھوں افراد مشکلات کا شکار ہیں اور بے گناہ لوگ جنگوں اور تنازعات میں اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے عالمی برادری کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ کیا مسائل کے حل کے لیے تشدد ہی واحد راستہ ہے۔
پوپ لیو نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عالمی سطح پر امن کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور ہر فورم پر جنگ کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔
