شمال مغربی پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے آغاز کے ساتھ ہی بدامنی کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کے علاقے چھپری وزیراں میں اس وقت رونما ہوا جب ملک بھر میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی قومی مہم باضابطہ طور پر شروع کی گئی تھی۔
مقامی پولیس ذرائع کے مطابق پیر کے روز نامعلوم مسلح افراد نے پولیو ٹیم کی حفاظت پر تعینات پولیس اہلکاروں پر اچانک فائرنگ کر دی۔ اس حملے کے نتیجے میں ایک پولیس افسر موقع پر جان کی بازی ہار گیا جبکہ چار دیگر اہلکار زخمی ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا، جس میں دونوں طرف سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔
ہنگو پولیس کے ترجمان کے مطابق حملے کے فوراً بعد اضافی نفری کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا تاکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کی جا سکے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
تاحال کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم سکیورٹی ادارے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں اور حملہ آوروں کے تعاقب کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔
یہ افسوسناک واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان بھر میں ایک بڑی انسداد پولیو مہم جاری ہے جس کے تحت تقریباً چار کروڑ پچاس لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق اس مہم میں تقریباً چار لاکھ ہیلتھ ورکرز حصہ لے رہے ہیں جو گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو حفاظتی ویکسین فراہم کریں گے۔
حکام کے مطابق پولیو ایک خطرناک وائرس ہے جو زیادہ تر کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے اور بعض صورتوں میں مستقل معذوری یا فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ اس بیماری سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ بروقت ویکسینیشن ہے جو چند قطروں کے ذریعے دی جاتی ہے اور بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران پولیو ورکرز اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں، خاص طور پر خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں ایسے حملے زیادہ رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد ہیلتھ ورکرز اور پولیس اہلکار اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جس سے انسداد پولیو مہم کو شدید چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔
ماضی میں بعض حلقوں کی جانب سے پولیو ویکسین کے حوالے سے غلط فہمیاں بھی پھیلائی گئیں، جن میں یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ ویکسین میں غیر حلال اجزاء شامل ہیں، تاہم صحت کے ماہرین نے بارہا ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان غلط فہمیوں کی وجہ سے بعض علاقوں میں ویکسینیشن مہم کو مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
مزید برآں، 2011 میں ایک واقعے کے بعد ویکسینیشن کے حوالے سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا جب امریکہ کی ایک مبینہ خفیہ کارروائی کے دوران پاکستان میں جعلی ویکسینیشن مہم کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد مقامی آبادی میں اعتماد کی کمی دیکھی گئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال پاکستان میں پولیو کا صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے، تاہم ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی اب بھی مختلف اضلاع میں پائی گئی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق اس سال اب تک 87 میں سے 23 اضلاع میں پولیو وائرس کی نشاندہی ہو چکی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وائرس اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں پولیو وائرس کے مثبت ماحولیاتی نمونوں میں کمی ضرور آئی ہے، تاہم خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے ملک بھر میں مسلسل انسداد پولیو مہمات جاری رکھی جا رہی ہیں تاکہ ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
سکیورٹی اداروں کے مطابق موجودہ صورتحال کے باوجود پولیو مہم کو جاری رکھا جائے گا اور اس کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ہیلتھ ورکرز اور پولیس اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
