امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا حالیہ دور، جو کسی حتمی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوا، اسے سفارت کاری کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ بلکہ یہ اس امر کو واضح کرتا ہے کہ ایسے ماحول میں پیش رفت کس قدر پیچیدہ ہو جاتی ہے جہاں طویل المدتی کشیدگی، باہمی بداعتمادی اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتِ حال موجود ہو۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات کئی ہفتوں سے جاری علاقائی کشیدگی کے پس منظر میں ہوئے، جہاں یورینیم افزودگی، ایران کے جوہری ذخیرے کی حیثیت، علاقائی سلامتی کے امور اور آبنائے ہرمز کے مستقبل جیسے اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقوں نے مذاکرات کے تسلسل پر آمادگی ظاہر کی—ایک ایسی پیش رفت جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
سعودی عرب اور وسیع تر خلیجی خطے کے لیے بنیادی اہمیت کسی ایک مذاکراتی دور کے نتیجے کی نہیں، بلکہ علاقائی استحکام کے تحفظ، خودمختاری کے احترام اور توانائی و تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو یقینی بنانے کی ہے۔ یہ ترجیحات مملکت کے دیرینہ تزویراتی مؤقف سے ہم آہنگ ہیں، جو کشیدگی میں کمی، مکالمے کے فروغ اور بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔ سعودی سفارت کاری مسلسل اس بات کو اجاگر کرتی رہی ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم آبی راستوں میں سلامتی برقرار رکھنا ناگزیر ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل اور معاشی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
اسی تناظر میں آبنائے ہرمز بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق عالمی توانائی کی بڑی مقدار اس اسٹریٹجک گزرگاہ سے گزرتی ہے، جس کے باعث اس کی صورت حال میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی کیفیت عالمی سطح پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ حالیہ پیش رفت نے اس معاملے کی حساسیت کو مزید نمایاں کیا ہے، جہاں بحری سلامتی اور رسائی کے حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ تجارتی جہاز رانی کسی حد تک جاری ہے، تاہم عالمی منڈیوں کے لیے مجموعی پیغام احتیاط کا ہے، اور بحری نقل و حرکت میں استحکام کو عالمی معیشت کے لیے ایک بنیادی ترجیح سمجھا جا رہا ہے۔
جوہری معاملہ بھی ان مذاکرات کا ایک مرکزی عنصر بنا ہوا ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی حالیہ رپورٹس میں ایران کے اس جوہری ذخیرے کا حوالہ دیا گیا ہے جس کی پہلے تصدیق ہو چکی تھی اور جو نسبتاً بلند سطح تک افزودہ یورینیم پر مشتمل ہے، جبکہ بعض تنصیبات تک محدود رسائی کے باعث موجودہ نگرانی میں رکاوٹوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ یہ صورت حال شفافیت اور بین الاقوامی نگرانی کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ کسی بھی آئندہ سفارتی فریم ورک کے لیے ضروری ہوگا کہ ایسے قابلِ اعتماد، قابلِ تصدیق اور بین الاقوامی نگرانی میں آنے والے نظام وضع کیے جائیں جو اعتماد کو مضبوط کریں اور طویل مدتی علاقائی استحکام کو یقینی بنائیں۔ اس تناظر میں سفارت کاری کسی رعایت کا نام نہیں، بلکہ وضاحت، شفافیت اور باہمی اعتماد کی جانب ایک منظم راستہ ہے۔
فوری معاملات سے آگے بڑھ کر دیکھا جائے تو ایک وسیع تر سبق بھی واضح ہوتا ہے۔ خطہ اشتعال انگیز بیانات کے بجائے متوازن اور سنجیدہ طرزِ عمل سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ متعدد بین الاقوامی اور علاقائی شراکت داروں نے بھی تحمل، جنگ بندی کے تسلسل اور سفارتی کوششوں کے فروغ پر زور دیا ہے۔ یہ مؤقف اس بڑھتی ہوئی عالمی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ تدریجی اور پیچیدہ ہونے کے باوجود مسلسل مکالمہ، دوبارہ عدم استحکام کی طرف جانے سے کہیں بہتر راستہ ہے—ایسا عدم استحکام جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
سعودی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو موجودہ صورت حال کا موزوں جواب تزویراتی توازن میں مضمر ہے۔ اس کے لیے نہ تو ضرورت سے زیادہ تشویش کا اظہار درکار ہے اور نہ ہی غیر فعالیت، بلکہ استحکام کے لیے مستقل عزم کی ضرورت ہے۔ جنگ بندی کا برقرار رہنا نہایت اہم ہے، جبکہ بحری سلامتی کو سیاسی مفادات کا ذریعہ بننے سے محفوظ رکھنا بھی اسی قدر ضروری ہے۔ مزید برآں، جوہری معاملے سے متعلق کسی بھی حل کو بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونا چاہیے اور اس میں مضبوط نگرانی کے نظام شامل ہونے چاہئیں۔
آنے والے وقت میں اگلا مرحلہ محتاط سفارتی روابط کی بحالی اور اعتماد سازی کے تدریجی اقدامات سے متعین ہو سکتا ہے۔ اس میں مسلسل سفارتی رابطے، نئی سفارتی کوششیں اور بحری سلامتی و توانائی کی ترسیل کے استحکام پر توجہ شامل ہو سکتی ہے۔ خطے کے لیے سب سے اہم ترجیح کسی بھی غلط اندازے سے بچنا اور مکالمے کے لیے جگہ برقرار رکھنا ہے۔ اس تناظر میں سعودی عرب کا متوازن اور مستقل مؤقف، جو کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام پر مبنی ہے، خاص طور پر اہمیت اختیار کرتا ہے۔
بالآخر اسلام آباد مذاکرات کو کسی اختتام کے بجائے ایک جاری سفارتی عمل کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ یہ نہ صرف درپیش چیلنجز کو واضح کرتے ہیں بلکہ مسلسل مکالمے کی ناگزیر اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ آگے بڑھنے کا راستہ مکالمے، تحمل اور علاقائی و عالمی استحکام کے لیے مشترکہ عزم میں مضمر ہے۔
مصنفہ کے بارے میں:
ڈاکٹر سمیرہ عزیز سعودی عرب کی سینئر صحافی، کاروباری شخصیت، مصنفہ، شاعرہ اور بین الثقافتی تجزیہ کار ہیں، اور جدہ میں مقیم ہیں۔ آپ ابلاغیات میں پی ایچ ڈی کی حامل ہیں اور مملکت میں خواتین صحافت کی اولین شخصیات میں سے ہیں۔ آپ وژن 2030کی مضبوط حامی ہیں۔
رابطہ Consultant.sameera.aziz@gmail.com :
