امریکا نے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو روس منتقل کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا تھا۔
روسی صدارتی دفتر کریملن کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی تھی، تاہم امریکی فریق کی جانب سے اس تجویز کو قبول نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ روس نے تجویز دی تھی کہ وہ ایران کے تمام افزودہ یورینیم کو اپنے کنٹرول میں لے لے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے حل میں مدد مل سکے اور جوہری خدشات کو کم کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ ماسکو نے یہ تجویز پہلی بار گزشتہ سال جون میں پیش کی تھی، تاہم اس پر اس وقت بھی کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔ اب ایک بار پھر اس تجویز کی ناکامی کو سفارتی عمل کے لیے ایک دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور برقرار ہے، جو کسی بھی بڑے معاہدے کی راہ میں اہم رکاوٹ بن سکتا ہے
