سعودی عرب نے ایک بار پھر پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اہم مالی معاونت کا اعلان کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات مزید مضبوط ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ جمعرات کے روز سعودی حکام کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ پاکستان کے مرکزی بینک میں مزید تین ارب ڈالر جمع کروائے جا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد محمد بن سلمان کی ہدایات پر کیا گیا، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ سعودی قیادت پاکستان کی معاشی استحکام کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک روز قبل ہی عندیہ دیا تھا کہ سعودی عرب نہ صرف مزید تین ارب ڈالر فراہم کرے گا بلکہ پہلے سے موجود پانچ ارب ڈالر کے ذخیرے کی مدت میں بھی توسیع کرے گا۔ اس توسیع سے پاکستان کو فوری مالی دباؤ سے نجات ملے گی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والا دباؤ کسی حد تک کم ہو سکے گا۔
سعودی خبر رساں ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ مالی معاونت پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے اور عالمی معاشی چیلنجز کے مقابلے میں اس کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے فراہم کی جا رہی ہے۔ بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ یہ اقدام دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے تعلقات اور باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ مزید برآں، پانچ ارب ڈالر کے پہلے سے موجود ذخیرے کی مدت میں توسیع بھی اسی پیکج کا حصہ ہے، جس سے پاکستان کو اپنی مالی حکمت عملی بہتر انداز میں ترتیب دینے کا موقع ملے گا۔
اس سے قبل پاکستان کے مرکزی بینک، یعنی اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نے اعلان کیا تھا کہ اسے پندرہ اپریل 2026 کو سعودی عرب سے دو ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں۔ یہ تمام رقوم مجموعی طور پر پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو اپنے مالی اہداف حاصل کرنے کے لیے مسلسل بیرونی معاونت کی ضرورت ہے۔
پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سات ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت کام کر رہا ہے، جس کے مطابق جون تک زرمبادلہ کے ذخائر کو اٹھارہ ارب ڈالر سے زائد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم، اس ہدف کے حصول میں کئی چیلنجز بھی درپیش ہیں، جن میں بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں اور عالمی مالیاتی دباؤ شامل ہیں۔
اسی تناظر میں ایک بڑا چیلنج اس ماہ متحدہ عرب امارات کو ساڑھے تین ارب ڈالر کی ادائیگی ہے، جس نے پاکستان کے ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ مارچ کے آخر تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً سولہ اعشاریہ چار ارب ڈالر کی سطح پر موجود تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مالی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ بیرونی معاونت بھی ناگزیر ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض اقتصادی تعاون تک محدود نہیں بلکہ حالیہ برسوں میں ان میں دفاعی اور اسٹریٹجک پہلو بھی شامل ہو گئے ہیں۔ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان ایک باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔
سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو معاشی مشکلات کے دوران مدد فراہم کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ سن 2018 میں بھی سعودی عرب نے چھ ارب ڈالر کا پیکج دیا تھا، جس میں تین ارب ڈالر مرکزی بینک میں جمع کروائے گئے تھے جبکہ تین ارب ڈالر کی مالیت کا تیل ادھار پر فراہم کیا گیا تھا۔ اس اقدام نے اس وقت پاکستان کو فوری مالی بحران سے نکلنے میں مدد دی تھی۔
دوسری جانب پاکستان بھی اپنی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ حال ہی میں ملک نے ایک ارب تینتالیس کروڑ ڈالر کا بیرونی قرض واپس کیا، جس میں یورو بانڈز کی مد میں ایک ارب تیس کروڑ ڈالر شامل تھے۔ اس کے علاوہ تقریباً ایک سو چھبیس ملین ڈالر دیگر بانڈز پر سود کی ادائیگی کی مد میں ادا کیے گئے۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اس حوالے سے بتایا کہ قرضوں کی بروقت ادائیگی پاکستان کی مالی نظم و ضبط اور بہتر صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سعودی عرب کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ نئی مالی معاونت پاکستان کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ ایک طرف یہ فوری مالی دباؤ کو کم کرے گی، جبکہ دوسری جانب عالمی سطح پر پاکستان کی معیشت پر اعتماد کو بھی تقویت دے گی۔ ایسے حالات میں جب عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، پاکستان کے لیے دوست ممالک کی مدد نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے، اور سعودی عرب اس ضمن میں ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
