لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دونوں ممالک نے دس روزہ جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے گفتگو ہوئی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ ان کے مطابق یہ جنگ بندی امریکی وقت کے مطابق شام پانچ بجے جبکہ لبنان کے مقامی وقت کے مطابق رات بارہ بجے سے نافذ العمل ہوگی، اور حزب اللہ بھی اس میں شامل ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہ اس سے قبل نو جنگیں ختم کروا چکے ہیں اور یہ دسویں جنگ ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ لبنان اور اسرائیل کے رہنماؤں کو باہمی بات چیت کے لیے مدعو کیا جائے گا تاکہ دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے جنگ بندی کے حوالے سے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں لبنانی سرزمین پر اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ اور اسرائیلی افواج کی نقل و حرکت پر پابندی شامل ہونی چاہیے۔ تنظیم نے دو مارچ سے پہلے کی صورتحال بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری سے گفتگو میں کہا کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات میں بھی اس مؤقف کو دہرایا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ لبنان میں جنگ بندی کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی قیادت نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ دانشمندی سے فیصلہ کرے، بصورت دیگر دوبارہ جنگی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی امن کی کوششوں کو موقع دینے کے لیے کی گئی ہے، تاہم اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں موجود رہیں گی۔
یورپی اتحاد نے بھی اس جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق خطے میں مستقل امن کے لیے مزید سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔
