انطالیہ: ترکیہ کے شہر انطالیہ میں جاری عالمی سفارتی سرگرمیوں کے دوران وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے اہم ملاقات کی، جس میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی سطح پر کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے نئے دور کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، اور بڑی طاقتیں امن کی جانب پیش قدمی کے لیے متحرک دکھائی دے رہی ہیں۔
ترکیہ کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ ملاقات انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ہوئی، جہاں دنیا بھر سے رہنما اور اعلیٰ حکام 17 سے 19 اپریل تک جمع ہو رہے ہیں۔ فورم اس سال
“مستقبل کی سمت اور غیر یقینی حالات کا نظم” کے عنوان کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فورم کے دوران پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ایک اہم ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور امریکا ایران مذاکرات کے اگلے مرحلے پر مشاورت کی جائے گی۔
اطلاعات ہیں کہ امریکا اور ایران کے مذاکراتی وفود ایک بار پھر اسلام آباد کا رخ کر سکتے ہیں تاکہ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کسی حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
واضح رہے کہ حالیہ مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی حتمی پیشرفت سامنے نہیں آ سکی تھی، تاہم دونوں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے کے اشارے دیے تھے، جس کے بعد اب نئے سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس تناظر میں پاکستان، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے جو مذاکرات کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے دو روزہ دورے کے دوران اس سے قبل سعودی عرب اور قطر کا دورہ بھی کر چکے ہیں، جس کے بعد وہ ترکیہ پہنچے ہیں، جہاں وہ مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں
