کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیونے ایک بار پھر ایران پر حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے مسئلے کا پُرامن حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔
عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ صرف مذاکرات کی طرف واپسی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔
پوپ لیو نے کہا کہ ایرانی شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں اور یہ معاملہ صرف بین الاقوامی قانون تک محدود نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اخلاقی مسئلہ بھی ہے جس پر فوری توجہ درکار ہے۔
انہوں نے عالمی قیادت پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے تشدد اور جنگ کو روکیں اور امن کا راستہ اختیار کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ تنازعات کے حل کے لیے اس میز پر بیٹھا جائے جہاں بات چیت ہو، نہ کہ وہاں جہاں ہتھیار بنانے اور مہلک فیصلے کیے جاتے ہیں۔
پوپ لیو نے خبردار کیا کہ غیر منصفانہ جنگ مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے اور اس سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوگا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال عالمی معیشت، توانائی کے بحران اور نفرت کے پھیلاؤ کو مزید بڑھا رہی ہے۔
