ایران نے جنگ بندی کے دوران دارالحکومت تہران میں انقلاب چوک کے قریب ایک بڑے عوامی اجتماع میں قدر نامی بیلسٹک میزائل کی نمائش کر کے اپنی دفاعی قوت کا واضح اظہار کیا ہے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے نشر کردہ مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میزائل بردار گاڑی کے گرد عوام کا جمِ غفیر موجود ہے، جہاں لوگ قومی پرچم لہرا کر اپنے جوش و جذبے کا اظہار کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق قدر میزائل دراصل شہاب تھری کی جدید اور ترقی یافتہ شکل ہے، جو زیادہ درستگی کے ساتھ دور دراز اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے ان میزائلوں کو کثیر المقاصد دھماکا خیز سروں کے ساتھ استعمال کیا، جس سے ان کی تباہ کن صلاحیت میں مزید اضافہ ہوا۔
ادھر امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق مسلسل حملوں کے باوجود ایران کی عسکری طاقت مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ بتایا گیا ہے کہ ایران کے تقریباً نصف میزائل چھوڑنے والے نظام بدستور فعال ہیں، جبکہ ہزاروں کی تعداد میں بغیر پائلٹ کے اڑنے والے جہاز بھی موجود ہیں۔
مزید یہ کہ ایران کے پاس ساحلی دفاع کے لیے بھی مار کرنے والے میزائلوں کا خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہے، جو اس کی دفاعی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کے نزدیک جنگ بندی کے دوران اس نوعیت کا مظاہرہ ایک واضح پیغام ہے کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے
