مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اہم انکشاف کیا ہے کہ ماضی میں امریکا کے تین صدور نے اسرائیل کے ایران کے خلاف جنگی منصوبے کو مسترد کیا تھا۔
جان کیری کے مطابق سابق امریکی صدور جارج ڈبلیو بش، باراک اوباما اور جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے پیش کیے گئے ایران کے خلاف جنگی منصوبے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ تینوں امریکی صدور نے اس مؤقف پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ تنازع کو جنگ کے بجائے سفارتی اور پرامن طریقوں سے حل کیا جائے۔
جان کیری کے مطابق ماضی کی امریکی حکومتوں نے خطے میں بڑے تصادم سے بچنے کے لیے زیادہ محتاط اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی اختیار کی، تاکہ صورتحال مزید بگڑنے سے روکی جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز ہمیشہ کھلی رہی ہے اور ماضی کے بڑے تنازعات کے دوران بھی اسے بند نہیں کیا گیا، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔
سابق امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں بھی عالمی طاقتوں کو جذباتی فیصلوں کے بجائے ذمہ دارانہ اور محتاط رویہ اپنانا چاہیے، کیونکہ خطے میں کسی بھی بڑی جنگ کے سنگین عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا ہی زیادہ بہتر راستہ ہے، کیونکہ جنگ کی صورت میں صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتی ہے
