امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ جنگ سے متعلق اہم فیصلہ کرنے کے لیے صرف تین دن کا وقت رہ گیا ہے، کیونکہ 60 روزہ آئینی مدت اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس مدت کے ختم ہوتے ہی امریکی صدر کے لیے مزید عسکری اقدامات جاری رکھنے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہو جائے گا، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر غیر یقینی کیفیت پائی جا رہی ہے، جبکہ ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔
پارٹی کے کچھ رہنما ایران کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کے حامی ہیں، جبکہ دیگر ارکان ممکنہ جنگ کے نتائج، خطے میں عدم استحکام اور عالمی سطح پر اس کے اثرات کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ داخلی اختلافات صدر کے لیے فیصلہ سازی کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اور ہر قدم کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

Add A Comment