پاکستان نے علاقائی تجارت کو وسعت دینے اور نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے کی حکمتِ عملی کے تحت ایک اہم قدم اٹھایا ہے جس کے نتیجے میں ایران کے ساتھ تجارتی روابط کو مزید منظم اور فعال بنانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ حالیہ حکومتی اقدامات کے مطابق پاکستان نے اپنی سرزمین کو ایک ایسے ٹرانزٹ راستے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے جس کے ذریعے تیسرے ممالک سے آنے والا سامان ایران تک پہنچایا جا سکے گا۔ اس فیصلے سے نہ صرف دو طرفہ تجارت میں اضافہ متوقع ہے بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے نئے در بھی کھلنے کی امید کی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات کر رہا ہے۔ خاص طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے تحت جاری پروگرام کے تناظر میں حکومت کی کوشش ہے کہ بیرونی تجارت کو فروغ دے کر زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا جائے اور معاشی دباؤ کو کم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے نئے تجارتی راستوں کی تلاش اور پرانے راستوں کو بہتر بنانا حکمتِ عملی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے انتظامات کے تحت مختلف شاہراہوں اور راہداریوں کو ایران تک سامان کی ترسیل کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ ان راستوں میں ساحلی اور اندرونِ ملک دونوں طرح کے روٹس شامل ہیں تاکہ مختلف علاقوں سے سامان کی ترسیل آسانی سے ممکن ہو سکے۔
گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں سے نکلنے والے راستے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے ایران کی سرحد تک پہنچتے ہیں، جس سے نہ صرف بندرگاہی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ اندرونِ ملک سڑکوں کے استعمال میں بھی بہتری آئے گی۔
ان راہداریوں کی تفصیل میں متعدد اہم روٹس شامل کیے گئے ہیں، جن میں گوادر سے گبد تک براہِ راست راستہ، کراچی اور پورٹ قاسم سے مکران کوسٹل ہائی وے کے ذریعے گبد تک جانے والا راستہ، اور کراچی سے بلوچستان کے اندرونی علاقوں جیسے خضدار، دالبندین اور تفتان تک جانے والے زمینی راستے شامل ہیں۔ اسی طرح گوادر سے تربت، پنجگور، خضدار اور کوئٹہ کے ذریعے ایران کی سرحد تک رسائی کے مختلف متبادل راستے بھی متعین کیے گئے ہیں تاکہ کسی ایک راستے پر انحصار کم کیا جا سکے اور ترسیل کا عمل بغیر رکاوٹ جاری رہے۔
وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کیے گئے باضابطہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ سہولت ان اشیاء کے لیے دستیاب ہوگی جو کسی تیسرے ملک سے پاکستان پہنچیں اور پھر یہاں سے ایران منتقل کی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ اس تمام عمل کو ملکی کسٹمز قوانین کے تحت منظم کیا جائے گا تاکہ سامان کی نقل و حرکت شفاف اور قانونی دائرے میں رہے۔ اس سے نہ صرف تجارتی نظم و ضبط برقرار رہے گا بلکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔
تاہم اس پالیسی کے کچھ پہلو ابھی واضح نہیں کیے گئے، خاص طور پر یہ کہ آیا ایران اس سہولت کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے ذریعے دیگر ممالک کو اپنی برآمدات بھیج سکے گا یا نہیں۔ چونکہ ایران کو عالمی سطح پر مختلف اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے، اس لیے اس معاملے کی وضاحت مستقبل میں مزید پالیسی فیصلوں کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔
یہ پیش رفت دراصل اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان علاقائی روابط کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ چند ہفتے قبل پاکستان کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹرانزٹ ٹریڈ نے ایک نئی تجارتی راہداری کو عملی طور پر فعال کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت پہلی برآمدی کھیپ ایران کے راستے وسطی ایشیا بھیجی گئی۔ اس اقدام کو خطے میں تجارتی روابط کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
اس برآمدی کھیپ میں منجمد گوشت شامل تھا جسے کراچی سے ٹرکوں کے ذریعے روانہ کیا گیا اور ایران کی سرزمین عبور کرتے ہوئے ازبکستان تک پہنچایا گیا۔ اس عمل کے دوران گبد اور رمدان کے سرحدی مقامات استعمال کیے گئے، جس سے ایک نئے راستے کی عملی افادیت ثابت ہوئی۔ اس کامیاب تجربے نے پاکستان کے لیے مزید تجارتی مواقع پیدا کیے ہیں اور یہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی ممکن اور مؤثر ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی پاکستان کے لیے ایک متبادل اور قابلِ اعتماد راستہ فراہم کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب افغانستان کے ذریعے روایتی زمینی راستے سیاسی کشیدگی اور سکیورٹی مسائل کے باعث اکثر متاثر ہوتے رہتے ہیں۔ اس نئی حکمتِ عملی سے پاکستان کو نہ صرف اپنی برآمدات میں اضافہ کرنے کا موقع ملے گا بلکہ وہ خطے میں ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ایران کے ساتھ راہداری تعاون سے وسطی ایشیائی ممالک کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ انہیں پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ کراچی اور گوادر جیسے بندرگاہی مراکز ان ممالک کے لیے سمندری تجارت کے دروازے کھول سکتے ہیں، جس سے خطے میں اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور باہمی انحصار مضبوط ہوگا۔
حکومتی حکام کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے علاقائی تجارت کا حجم بڑھے گا، ویسے ویسے پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کو مشترکہ اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔ بہتر روابط، کم لاگت ٹرانسپورٹیشن، اور تیز تر ترسیل جیسے عوامل نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیں گے بلکہ روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ کریں گے۔
مزید برآں، یہ اقدامات پاکستان کی اس پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد خود کو ایک علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر منوانا ہے۔ مختلف راہداریوں کی ترقی، بندرگاہوں کی بہتری، اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون اس سمت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس طرح پاکستان نہ صرف اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ پورے خطے میں اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
