وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے حالیہ پریس کانفرنس میں پاکستان میں ایچ آئی وی کی صورتحال، حکومتی اقدامات، اور اس سے جڑے انتظامی و مالیاتی امور پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ ایچ آئی وی مریضوں کی تعداد تقریباً 84 ہزار ہے، جن میں سے 61 ہزار افراد باقاعدگی سے علاج حاصل کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً 23 ہزار ایسے مریض ہیں جن تک طبی اداروں کی رسائی نہیں ہو سکی یا وہ علاج کے نظام سے باہر ہیں، جو ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔
وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ ایچ آئی وی کو ایک لاعلاج بیماری سمجھنا درست نہیں، بلکہ مناسب اور مسلسل علاج کے ذریعے اس مرض کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مریض باقاعدگی سے ادویات لیتے رہیں تو وہ ایک معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاشرتی بدنامی، خوف اور رازداری اس بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، کیونکہ بہت سے افراد ٹیسٹ یا علاج سے گریز کرتے ہیں۔
اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی متوقع تعداد تقریباً 3 لاکھ 69 ہزار ہونی چاہیے تھی، لیکن موجودہ رجسٹرڈ شرح صرف 0.1 فیصد ہے، جو عالمی اوسط 0.5 فیصد سے کم ہے۔ ان کے مطابق یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں ابھی بھی بڑی تعداد ایسے افراد کی ہو سکتی ہے جو تشخیص سے محروم ہیں۔
انہوں نے اسکریننگ اور ٹیسٹنگ کے حوالے سے گزشتہ چند برسوں کا موازنہ بھی پیش کیا۔ سن 2020 میں ملک بھر میں 49 مراکز پر تقریباً 37 ہزار 944 افراد کی اسکریننگ کی گئی تھی، جن میں سے 6 ہزار 910 کیسز مثبت آئے۔ اس کے برعکس 2025 تک ٹیسٹنگ مراکز کی تعداد بڑھ کر 97 ہو گئی، جہاں 3 لاکھ 74 ہزار 126 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے اور 14 ہزار 182 کیسز سامنے آئے۔ ان کے مطابق ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیسٹنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مجموعی طور پر کیسز کا گراف نسبتاً مستحکم ہے اور کسی اچانک اضافے کی نشاندہی نہیں کرتا۔
وزیرِ صحت نے بین الاقوامی فنڈنگ کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بتایا کہ ایچ آئی وی کے ایک پروگرام کے تحت تقریباً 65 ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی تھی، جس میں سے 61.1 ملین ڈالر اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور ایک غیر سرکاری تنظیم “نئی زندگی” کو دیے گئے، جبکہ وزارتِ صحت کو براہِ راست صرف 3.9 ملین ڈالر فراہم کیے گئے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ متعلقہ اداروں کو فنڈز کے استعمال کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہیں، جو شفافیت کے حوالے سے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
علاقائی سطح پر صورتحال بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں اس وقت 618 رجسٹرڈ مریض موجود ہیں، جن میں سے 208 مقامی جبکہ 408 دیگر علاقوں سے ریفر کیے گئے ہیں، جن میں راولپنڈی، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تونسہ میں 2026 کے ابتدائی چار مہینوں کے دوران کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، حالانکہ 2024 میں اس علاقے میں ایچ آئی وی کے کیسز سامنے آئے تھے۔
حکومتی پالیسی کے حوالے سے انہوں نے ایک اہم اقدام کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت 10 سی سی سرنجوں پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے تاکہ ان کے دوبارہ استعمال کو روکا جا سکے۔ ان کے مطابق ماضی میں غیر محفوظ انجیکشن کے استعمال نے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، اس لیے اس مسئلے پر قابو پانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صحت کا شعبہ محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اگر اس پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو اس کے معاشی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اسی لیے حکومت اس شعبے میں اصلاحات اور نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
مزید برآں، انہوں نے ماضی میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اداروں کی جانب سے بعض پروگرامز میں فنڈز کے غلط استعمال کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں مچھر دانیوں کی خریداری جیسے منصوبے بھی شامل تھے۔ اس حوالے سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
وزیرِ صحت نے آخر میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ملک کی قیادت اور افواج نے مضبوط کردار ادا کیا، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ صحت کے نظام کو بھی اسی سنجیدگی کے ساتھ بہتر بنایا جائے۔ ان کے مطابق ایک مضبوط اور مؤثر صحت کا نظام ہی ملک کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
