ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی جانب سے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی سے متعلق خبروں نے عالمی توانائی منڈی میں ہلچل مچا دی ہے، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ اور حتمی تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یو اے ای کے وزیر توانائی نے عندیہ دیا ہے کہ ملک یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے۔ بیان کے مطابق یو اے ای طویل عرصے سے ان تنظیموں کا اہم رکن رہا ہے، لیکن بدلتی ہوئی عالمی توانائی ضروریات کے پیش نظر پالیسی پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یو اے ای کا مؤقف ہے کہ مستقبل میں دنیا کو توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کا سامنا ہوگا، اور ایسے میں خام تیل، پیٹرو کیمیکلز اور گیس کی پیداوار کے حوالے سے زیادہ خودمختار فیصلے ناگزیر ہو سکتے ہیں۔
تاہم توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یو اے ای واقعی اوپیک یا اوپیک پلس سے الگ ہوتا ہے تو یہ عالمی تیل منڈی کے توازن، قیمتوں اور سپلائی چین پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، کیونکہ یو اے ای ان تنظیموں کے بڑے اور بااثر اراکین میں شمار ہوتا ہے۔
دوسری جانب سرکاری سطح پر اس خبر کی مکمل تصدیق نہ ہونے کے باعث ماہرین احتیاط برتنے کا مشورہ دے رہے ہیں، اور اسے تاحال غیر مصدقہ اطلاعات قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ فیصلہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ نہ صرف اوپیک اتحاد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا بلکہ عالمی توانائی سیاست میں بھی ایک نئی صف بندی کا آغاز ہو سکتا ہے
