واشنگٹن / تہران : مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کو پیغام دیا ہے کہ وہ شدید دباؤ اور تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ امریکا فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھول دے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل بحال ہو سکے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری پروگرام پر بعد میں بات چیت کی تجویز پیش کی، تاہم صدر ٹرمپ اس پیشکش کو قبول کرنے کے حق میں نظر نہیں آتے۔
سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بظاہر امریکا اور ایران کے درمیان فاصلے زیادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن پس منظر میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے تیزی سے جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو نئی تجاویز بھی پیش کی ہیں، جن میں پہلے جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل امن کی ضمانت شامل ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق آبنائے ہرمز کھولنے کو امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کیا گیا ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس کے بعد جوہری پروگرام پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ امریکا ایران کے پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال ایک نازک سفارتی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ایک طرف سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں تو دوسری جانب پسِ پردہ مذاکرات کسی ممکنہ معاہدے کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔
