واشنگٹن / لندن: امریکا میں برطانیہ کے سفیر سر کرسچن ٹرنر کا ایک مبینہ آڈیو بیان منظرِ عام پر آنے کے بعد سفارتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ امریکا کا “خصوصی تعلق” برطانیہ کے ساتھ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر صرف اسرائیل کے ساتھ رہ گیا ہے۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والی آڈیو میں سفیر نے اعتراف کیا کہ اگرچہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان دفاع اور معیشت کے شعبوں میں قریبی تعاون بدستور موجود ہے، تاہم عالمی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور اس تعلق کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔
سر کرسچن ٹرنر نے کہا کہ امریکا اور برطانیہ کے تعلقات اب پہلے جیسے نہیں رہے بلکہ نئی عالمی صف بندی کے مطابق ایک مختلف شکل اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپ اب مکمل طور پر امریکا کے سکیورٹی نظام پر انحصار نہیں کر سکتا اور اسے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
سفیر کے مطابق موجودہ حالات میں امریکا کا سب سے قریبی اور خصوصی تعلق اسرائیل کے ساتھ دکھائی دیتا ہے، جسے انہوں نے موجودہ عالمی سیاست کی ایک اہم حقیقت قرار دیا۔
تاہم اس بیان پر برطانوی دفتر خارجہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ سفیر کی ذاتی رائے ہے اور اسے برطانوی حکومت کی سرکاری پالیسی نہ سمجھا جائے۔
ماہرین کے مطابق یہ انکشاف مغربی اتحادیوں کے درمیان بدلتے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں جغرافیائی سیاست اور سکیورٹی ترجیحات نئی سمت اختیار کر رہی ہیں۔
