عالمی توانائی کے نظام میں ایک غیر معمولی اور اہم تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس اتحاد سے اپنی باضابطہ علیحدگی کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ یکم مئی 2026 سے نافذ العمل ہوگا، جس کے ساتھ ہی یو اے ای کی تقریباً 59 سالہ رکنیت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ توانائی ماہرین کے مطابق یہ اقدام عالمی تیل مارکیٹ کے توازن کو متاثر کرنے والا ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے بعد یو اے ای کو ایک منظم کارٹل کے بجائے ایک آزاد اور خودمختار تیل پیدا کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور برینٹ کروڈ 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے۔ توانائی کے شعبے میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی چین کے مسائل نے پہلے ہی عالمی معیشت پر دباؤ بڑھا رکھا ہے۔
اس فیصلے کے پس منظر میں سب سے اہم عنصر پیداوار کے کوٹے سے متعلق طویل عرصے سے جاری اختلافات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران یو اے ای نے اپنی قومی آئل کمپنی ADNOC کے ذریعے اپ اسٹریم انفراسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، جس کی مجموعی مالیت 150 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان سرمایہ کاریوں کے نتیجے میں ملک کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 5 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔
تاہم اوپیک پلس کے اندر طے شدہ کوٹہ سسٹم کے تحت یو اے ای کی اصل پیداوار کو زیادہ تر 3.2 ملین بیرل یومیہ تک محدود رکھا گیا، جس کے باعث اس کی تقریباً 1.8 ملین بیرل یومیہ صلاحیت غیر استعمال شدہ رہی۔ یہ مجموعی صلاحیت کا تقریباً 40 فیصد بنتی ہے، جو طویل مدت میں ایک معاشی اور اسٹریٹیجک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، خاص طور پر اس وقت جب دنیا توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
علاقائی سطح پر بھی صورتحال نے اس فیصلے کو متاثر کیا ہے۔ خلیج میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، خصوصاً آبنائے ہرمز کے آس پاس پیدا ہونے والے بحرانوں نے تیل کی ترسیل کے نظام کو غیر مستحکم کیا۔ ایک موقع پر ان حالات کے باعث روزانہ تقریباً 10 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات سامنے آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں انفراسٹرکچر پر حملوں اور سیاسی تنازعات نے اوپیک پلس کے اندر اعتماد کو مزید کمزور کیا۔
یو اے ای کے پاس موجود متبادل انفراسٹرکچر نے بھی اس فیصلے کو ممکن بنایا۔ حبشان سے فجیرہ تک قائم پائپ لائن، جس کی گنجائش تقریباً 1.5 ملین بیرل یومیہ ہے، ملک کو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست خلیج عمان تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ اس اسٹریٹیجک سہولت نے یو اے ای کو ایسے حالات میں بھی اپنی برآمدات جاری رکھنے کی صلاحیت دی ہے، جب سمندری راستے غیر محفوظ ہوں۔
معاشی سطح پر بھی یو اے ای ایک بڑے تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں غیر تیل شعبوں کا حصہ تقریباً 77 سے 78 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ معیشت میں تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبوں میں مصنوعی ذہانت، مالیاتی خدمات، لاجسٹکس، سیاحت اور جدید صنعتیں شامل ہیں۔ 2026 میں ملک کی معاشی شرح نمو تقریباً 5.6 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جو اس کے اقتصادی استحکام اور تنوع کی عکاسی کرتی ہے۔
ابوظہبی کی طویل المدتی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تیل پر انحصار بتدریج کم کیا جائے لیکن موجودہ ذخائر سے زیادہ سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل کیا جائے۔ یو اے ای دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں تیل کی پیداواری لاگت نہایت کم یعنی تقریباً 10 سے 15 ڈالر فی بیرل ہے، جس کی وجہ سے یہ 60 سے 75 ڈالر فی بیرل کی عالمی قیمتوں پر بھی نمایاں منافع حاصل کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یو اے ای کا اوپیک سے نکلنا اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ تنظیم کے تیسرے بڑے پیداواری ملک کی علیحدگی ہے، جس سے عالمی سطح پر اضافی پیداواری صلاحیت کا ایک بڑا حصہ نظام سے باہر ہو گیا ہے۔ یہ وہی صلاحیت تھی جو ماضی میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور عالمی سپلائی کو متوازن بنانے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔
یہ فیصلہ صرف ایک تنظیمی علیحدگی نہیں بلکہ عالمی توانائی سیاست میں طاقت کے توازن کی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں تیل کی قیمتوں، پیداوار کی حکمت عملیوں اور عالمی معیشت پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
