تہران/واشنگٹن: ایران نے جمعرات کی شب اپنے فضائی دفاعی نظام کو فعال کرتے ہوئے چھوٹے طیاروں اور جاسوسی ڈرونز کا مقابلہ کیا، جبکہ امریکا میں وائٹ ہاؤس نے اشارہ دیا ہے کہ ایران جنگ کے معاملے پر وہ کانگریس کی ڈیڈ لائن کے پابند نہیں رہے گا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق تہران میں تقریباً 20 منٹ تک فضائی دفاعی نظام متحرک رہا، جس کی آواز شہر کے مختلف علاقوں میں سنی گئی۔ ایرانی حکام کے مطابق صورتحال اب معمول پر آ چکی ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ کے لیے کانگریس کی منظوری سے متعلق ڈیڈ لائن کا سامنا ہے، تاہم حکومتی مؤقف ہے کہ جنگ بندی کے باعث 60 روزہ مدت مؤثر طور پر معطل ہو چکی ہے۔
ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل بھی سامنے آیا ہے، جہاں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کی “شکست” کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں مضبوط پوزیشن میں ہے اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول برقرار ہے۔دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں برینٹ خام تیل 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جسے ماہرین نے حالیہ برسوں کا بڑا توانائی بحران قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے، جبکہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اسے تاریخ کے بڑے توانائی بحرانوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔علاقائی سطح پر کشیدگی برقرار ہے، اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مزید فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے، جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کسی بھی حملے کا “دردناک جواب” دینے کی دھمکی دی ہے۔
ادھر لبنان میں بھی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، جبکہ امریکا خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔
