امریکی صدر Donald Trump کی غیر معمولی مصروفیات اور مسلسل سرگرمی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جب وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف Susie Wiles نے ایک تقریب کے دوران ان کی ورکنگ روٹین سے متعلق حیران کن تفصیلات بیان کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی روزمرہ زندگی عام سیاسی شخصیات سے بالکل مختلف ہے کیونکہ وہ دن رات مسلسل مصروف رہتے ہیں، کم سوتے ہیں اور شاید ہی کبھی آرام کرتے ہوں۔ وائلز کے مطابق ان کے ساتھ کام کرنا ایک ایسا تجربہ ہے جس میں وقت، نیند اور آرام کی روایتی تعریفیں تبدیل ہوتی محسوس ہوتی ہیں۔
یہ گفتگو ایک خصوصی تقریب کے دوران سامنے آئی جہاں سوزي وائلز کو ان کی مضبوط قیادت اور انتظامی صلاحیتوں کے باعث “آہنی خاتون” کے لقب سے مخاطب کیا گیا۔ تقریب میں انہوں نے نہ صرف ٹرمپ کے کام کرنے کے انداز پر روشنی ڈالی بلکہ وائٹ ہاؤس کے اندرونی ماحول اور دباؤ سے بھرپور نظام کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کی مسلسل مصروفیات کے باعث عملے کو اپنی زندگیوں اور معمولات کو بھی اسی حساب سے ترتیب دینا پڑتا ہے۔
سوزي وائلز نے وضاحت کی کہ وہ اور ٹرمپ کے قریبی معاون Dan Scavino ایک خاص حکمتِ عملی کے تحت صدر کے شیڈول اور کالز کو سنبھالتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ ٹرمپ کسی بھی وقت رابطہ کر سکتے ہیں، اس لیے انہوں نے اپنی ذمہ داریاں مختلف اوقات میں تقسیم کر رکھی تھیں تاکہ ہر وقت کوئی نہ کوئی ان کے امور دیکھ سکے۔ وائلز صبح سویرے کی کالز اور معاملات سنبھالتیں، جبکہ ڈین سکاوینو رات گئے ہونے والی گفتگوؤں اور ہدایات پر نظر رکھتے تھے۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا طرزِ زندگی عام انسانوں جیسا نہیں۔ ان کے مطابق اکثر ایسا ہوتا کہ رات گئے بھی وہ متحرک ہوتے، منصوبہ بندی کرتے یا سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے قریبی ساتھیوں کو بھی اپنی نیند اور ذاتی وقت کی قربانی دینا پڑتی تھی۔
تقریب کے میزبان نے جب سوزي وائلز سے سوال کیا کہ ایک ایسے شخص کے ساتھ مسلسل کام کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے جو شاید ہی کبھی سوتا ہو، تو انہوں نے نہایت دلچسپ انداز میں جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود ان لوگوں میں شامل نہیں جو کم نیند پر گزارا کر سکیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں بھرپور آرام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ تاہم انتخابی مہم اور سیاسی سرگرمیوں کے دوران حالات ایسے تھے کہ انہیں اپنی عادات تبدیل کرنا پڑیں۔
انہوں نے بتایا کہ صدارتی مہم کے دوران انہوں نے جلد سونے کی عادت اپنا لی تھی تاکہ صبح کے ابتدائی اوقات میں آنے والی کالز اور ہدایات کے لیے تیار رہ سکیں۔ دوسری جانب ڈین سکاوینو رات گئے تک جاگنے کے عادی تھے، اس لیے انہوں نے رات کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ اس تقسیمِ کار کی بدولت ٹیم دو سال تک مؤثر انداز میں کام کرتی رہی اور وہ اس قابل رہے کہ اپنی محدود نیند کو کسی حد تک برقرار رکھ سکیں، چاہے ٹرمپ خود آرام نہ کرتے ہوں۔
وائلز کے مطابق ٹرمپ کی توانائی اور مصروفیات حیران کن حد تک مسلسل ہوتی ہیں۔ وہ ایک ہی دن میں کئی ملاقاتیں، تقریبات، سفر اور میڈیا سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر بھی مسلسل متحرک رہتے ہیں۔ ان کی بہت سی پوسٹس رات گئے یا علی الصبح سامنے آتی ہیں، جس سے ان کے ناقدین اور حامی دونوں اکثر حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔
سوزي وائلز کے ان انکشافات کے بعد سوشل میڈیا پر وسیع بحث شروع ہوگئی۔ کچھ صارفین نے ٹرمپ کی توانائی اور مسلسل سرگرمی کو ان کی قیادت کی علامت قرار دیا، جبکہ بعض ناقدین نے اسے غیر معمولی اور غیر متوازن طرزِ زندگی سے تعبیر کیا۔ کئی افراد نے اس بات پر حیرت ظاہر کی کہ اتنی مصروفیات کے باوجود وہ مسلسل عوامی اجتماعات، سفارتی سرگرمیوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فعال رہتے ہیں۔
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہی منفرد انداز انہیں دیگر سیاست دانوں سے الگ بناتا ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ روایتی سیاسی نظام سے ہٹ کر ایک ایسی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں جو ہر وقت میڈیا کی توجہ میں رہنا پسند کرتے ہیں اور براہِ راست عوام سے رابطہ برقرار رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سوشل میڈیا پیغامات اکثر رات کے اوقات میں بھی جاری ہوتے ہیں اور سیاسی مباحث کو نئی سمت دے دیتے ہیں۔
دوسری جانب سوزي وائلز کی اپنی زندگی بھی حالیہ مہینوں میں ایک بڑے امتحان سے گزری ہے۔ چند ماہ قبل انہوں نے عوامی طور پر انکشاف کیا تھا کہ انہیں چھاتی کے کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس اعلان کے بعد سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر ان کے لیے ہمدردی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے اپنی بیماری کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ میں ہر آٹھ خواتین میں سے ایک کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر اس بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وائلز نے اس موقع پر ان خواتین کی ہمت کو سراہا جو بیماری کے باوجود اپنے خاندان، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور سماجی فرائض کو جاری رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسی خواتین طاقت، صبر اور عزم کی مثال ہوتی ہیں۔ اپنے پیغام میں انہوں نے جذباتی انداز میں لکھا کہ اب وہ خود بھی ان خواتین کی صف میں شامل ہو چکی ہیں جو اس آزمائش کا سامنا کر رہی ہیں۔
ان کے حالیہ بیانات کے بعد ایک بار پھر نہ صرف ٹرمپ کی غیر معمولی مصروفیات بلکہ وائلز کی اپنی پیشہ ورانہ وابستگی بھی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ شدید ذاتی مشکلات کے باوجود ان کا اپنے فرائض جاری رکھنا ان کی مضبوط شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔
