تہران/تل ابیب :مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے تناؤ کے بیچ ایران نے ایک واضح پیغام دے دیا ہے ابھی امن کی باتیں نہیں، پہلے بدلے کی کارروائیاں مکمل ہوں گی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران نے قطر اور عمان کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ابتدائی حملوں کا مکمل اور فیصلہ کن جواب دینے کے بعد ہی کسی ممکنہ جنگ بندی یا مذاکرات پر غور کرے گا۔
ایک اعلیٰ سفارتی ذریعے نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایاکہ ایرانی حکام نے ثالثوں کو واضح کر دیا ہے کہ وہ اس وقت مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ بدلہ مکمل کیے بغیر کوئی گفتگو ممکن نہیں۔
دوسری جانب، اسرائیل نے مشرقِ وسطیٰ کے آسمان کو گرج دار پیغام میں بدل دیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) کے ترجمان نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھاہم اس وقت وسطی ایران میں زمین سے زمین تک مار کرنے والے ایرانی میزائلوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ہم نہ صرف اپنی فضاؤں میں، بلکہ ایرانی فضاؤں میں بھی فعال ہیں، خطرہ جہاں ہو، IDF وہاں موجود ہے۔
قطر اور عمان جیسے ثالث ممالک امن کی کوششوں میں سرگرم تھے، لیکن ایران کے اس پیغام کے بعد سفارتی دروازے وقتی طور پر بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ خطے میں مسلسل بڑھتے حملوں اور جوابی کارروائیوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو دہلایا ہے بلکہ عالمی طاقتیں بھی تشویش میں مبتلا ہو گئی ہیں۔
کیا آنے والے دنوں میں جنگ مزید پھیل سکتی ہے؟ایران کے جارحانہ ردعمل اور اسرائیل کی براہِ راست کارروائیوں کے بعد سوال اب یہ ہے کہ کیا خطہ کسی بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟ یا عالمی طاقتیں کسی معجزاتی سفارتی کامیابی کے ذریعے اس بحران کو ٹالنے میں کامیاب ہو پائیں گی؟
