واشنگٹن ڈی سی :امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایوانوں میں ایک بڑی اور غیر معمولی تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی (DIA) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز کو اُن کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیوی کے دو دیگر اعلیٰ عہدیداروں نیوی ریزرو کی سربراہ وائس ایڈمرل نینسی لیکور اور نیول اسپیشل وارفیئر کمانڈ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل ملٹن سینڈز نے بھی اپنے عہدےچھوڑدیےہیں۔ ان اچانک برطرفیوں نے امریکی عسکری و سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز، جنہیں 2024 کے اوائل میں ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، ایک ایسی رپورٹ کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقے کی ناراضی کا شکار بنے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف امریکی حملوں کے اثرات پر ابتدائی تخمینہ پیش کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی حملے تہران کے جوہری پروگرام کو صرف چند مہینوں کے لیے سست کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، لیکن مکمل تباہی یا دیرپا اثرات کے کوئی شواہد موجود نہیں۔ یہ دعویٰ سابق صدر ٹرمپ کے بیانات سے متصادم تھا، جنہوں نے ان حملوں کو ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ قرار دیا تھا۔
رپورٹ کے میڈیا میں شائع ہونے کے بعد نہ صرف واشنگٹن میں سیاسی فضا گرم ہو گئی، بلکہ پینٹاگون کے اندر بھی شدید دباؤ محسوس کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، رپورٹ کی اشاعت کے بعد صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم جنرل کروز سے سخت نالاں ہوئے، جس کے بعد ان کی برطرفی ایک متوقع مگر غیر رسمی فیصلہ بن گئی۔
ایک اعلیٰ دفاعی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاجنرل کروز اب ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے ڈائریکٹر کے طور پر کام نہیں کریں گے۔ ان کی جگہ کسی عبوری یا مستقل ڈائریکٹر کا فیصلہ جلد متوقع ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز نے اپنے کیریئر کے دوران کئی اہم ذمہ داریاں نبھائیں، جن میں نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر کے فوجی مشیر اور داعش کے خلاف عالمی اتحاد میں انٹیلیجنس ڈائریکٹر جیسے حساس اور کلیدی کردار شامل ہیں۔ ان کی برطرفی کو بعض تجزیہ کار امریکی انٹیلیجنس سسٹم میں "غیر معمولی سیاسی مداخلت” قرار دے رہے ہیں۔
