کراچی: پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2024-25 کے سالانہ مالی گوشوارے جاری کرتے ہوئے ایک تاریخ ساز سنگِ میل عبور کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق، مرکزی بینک نے اس عرصے میں 500 ارب روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جبکہ قانونی تقاضوں اور اکاؤنٹنگ فریم ورک کے مطابق اختصاص کے بعد 2,428 ارب روپے کا فاضل منافع وفاقی حکومت کے خزانے میں منتقل کردیا گیا۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کے مطابق، یہ مالی گوشوارے نہ صرف عالمی معیارات کے مطابق تیار کیے گئے ہیں بلکہ ان کے ساتھ آزاد آڈیٹرز کی رپورٹ بھی شامل کی گئی ہے۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956 کی شق 40(3) کے تحت یہ رپورٹس باضابطہ طور پر وفاقی حکومت اور پارلیمان کو ارسال کر دی گئی ہیں، جس سے اس عمل کی شفافیت اور قانونی حیثیت مزید مستحکم ہوگئی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کا یہ شاندار منافع نہ صرف مالیاتی نظم و ضبط کی مضبوطی کی علامت ہے بلکہ ملکی معیشت میں استحکام اور وفاقی بجٹ کو سہارا دینے میں بھی نمایاں کردار ادا کرے گا۔ ان کا ماننا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی بہتر حکمتِ عملی اور مالیاتی پالیسیوں کی بدولت حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے اور معاشی پالیسیوں کو اعتماد کے ساتھ آگے بڑھانے میں سہولت ملے گی۔
گورنر اسٹیٹ بینک، جمیل احمد نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا
پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور اس سفر میں بینکنگ شعبہ ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے
ان کے مطابق، مستحکم مالی پالیسیوں اور بہتر ریگولیٹری اقدامات کے ذریعے نہ صرف افراطِ زر پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ سرمایہ کاروں اور عوام کا اعتماد بھی بڑھ رہا ہے۔
یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسٹیٹ بینک نہ صرف پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کو مضبوط رکھنے میں کامیاب ہو رہا ہے بلکہ حکومتی بجٹ کو سہارا دینے کے لیے بھی نمایاں وسائل فراہم کر رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پیش رفت مستقبل میں سرمایہ کاری کے بہتر مواقع، مالیاتی پالیسیوں میں اعتماد اور معیشت میں استحکام کا باعث بنے گی۔
