ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں اور ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کی عارضی معطلی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ دنیا بھر کی حصص منڈیوں میں تیزی کا رجحان سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 12 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل، امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 90 ڈالر فی بیرل اور متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 99 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق کشیدگی میں کمی اور ممکنہ معاہدے کی امید نے توانائی کی منڈیوں میں دباؤ کم کیا ہے، جس کے باعث قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب ایشیائی اور یورپی حصص بازاروں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔ جنوبی کوریا کے کاسپی اشاریے میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ہنڈریڈ انڈیکس میں بھی 2 فیصد سے زائد بہتری ریکارڈ کی گئی۔
ایک موقع پر ہنڈریڈ انڈیکس 3 ہزار 896 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 68 ہزار 638 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔
یورپ میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں جرمنی، برطانیہ اور فرانس کی حصص منڈیوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر اس کے مزید مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
