صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں دکانیں رات دس بجے تک کھولنے کی اجازت دی جائے جبکہ ہوٹلوں اور دیگر کاروباری مراکز کو بھی دیر تک کاروبار جاری رکھنے کی سہولت فراہم کی جائے، بصورت دیگر تاجر برادری احتجاج پر مجبور ہو گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اجمل بلوچ نے کہا کہ کاروباری اوقات میں سختی اور رات آٹھ بجے دکانیں بند کرنے کی پالیسی نے چھوٹے تاجروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر 14 مئی تک لاک ڈاؤن اور پابندیوں میں نرمی نہ کی گئی تو ملک گیر سطح پر احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران ملک کا کاروباری طبقہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ کسان، صنعت کار اور تاجر تینوں طبقات شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ صنعتی یونٹ بند ہو رہے ہیں، فیکٹریاں بندش کا شکار ہیں اور کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
اجمل بلوچ نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال نے چھوٹے دکانداروں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، کیونکہ مقررہ وقت سے پہلے کاروبار بند کرنے سے ان کی آمدن بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کاروباری طبقے کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور ایسے فیصلے کیے جائیں جو معیشت کی بحالی میں مددگار ثابت ہوں۔
انہوں نے کہا کہ تاجر برادری ہمیشہ ملک کی معیشت کے استحکام کے لیے کردار ادا کرتی رہی ہے، مگر اب اس طبقے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر فوری طور پر پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
اجمل بلوچ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملک بھر کے تاجر احتجاجی لائحہ عمل اختیار کریں گے جس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ کاروباری اوقات میں نرمی کی جائے، معیشت کو سہارا دیا جائے اور تاجروں کو ریلیف فراہم کر کے صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو بحال کیا جائے۔
