شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں آج سے سہ فریقی ٹی 20 سیریز کا آغاز ہو رہا ہے جس میں پاکستان، افغانستان اور میزبان متحدہ عرب امارات کی ٹیمیں ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہوں گی۔ یہ ٹورنامنٹ 29 اگست سے 7 ستمبر تک جاری رہے گا اور اسے ایشیا کپ 2025 سے قبل ٹیموں کی تیاریوں کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔
افتتاحی معرکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان آج شام سات بجے شارجہ میں کھیلا جائے گا۔ اس مقابلے کے ساتھ ہی تینوں ممالک کے درمیان کرکٹ کے نئے سفر کا آغاز ہو رہا ہے، جس میں ہر ٹیم دوسری دو ٹیموں کے خلاف دو دو میچز کھیلے گی اور آخر میں 7 ستمبر کو فائنل ہوگا۔
گزشتہ روز ہونے والی تقریب میں ٹرافی کی رونمائی کی گئی جس میں تینوں ممالک کے کپتان موجود تھے۔ پاکستان کے قائد سلمان علی آغا، افغانستان کے راشد خان اور یو اے ای کے محمد وسیم نے ٹرافی کے ساتھ فوٹو سیشن میں شرکت کی اور اپنے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سلمان علی آغا نے کہا کہ ٹیم اچھی تیاری کے ساتھ میدان میں اترے گی اور ماضی کے کھلاڑیوں کی تنقید سے کھلاڑیوں کے حوصلے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دوسری جانب افغان کپتان راشد خان نے کہا کہ اگرچہ ان کی ٹیم کو کافی عرصے سے ٹی 20 کرکٹ کھیلنے کا موقع نہیں ملا مگر کھلاڑی پرجوش ہیں اور بہترین کھیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔
پاکستانی اسکواڈ میں کئی نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کو اس سیریز میں آرام دیا گیا ہے تاکہ نئے کھلاڑیوں کو آزمایا جا سکے۔ کپتانی کی ذمہ داری سلمان علی آغا کو سونپی گئی ہے، جبکہ فخر زمان اور شعیب ملک جیسے تجربہ کار کھلاڑی ٹیم کا حصہ ہیں۔ افغانستان کی ٹیم کی قیادت حسبِ روایت راشد خان کر رہے ہیں جبکہ میزبان یو اے ای نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا ہے جس کی قیادت محمد وسیم کے ہاتھوں میں ہے۔
سیریز کا مکمل شیڈول بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق پہلا میچ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہوگا، اگلے روز پاکستان اور یو اے ای کا مقابلہ ہوگا، جبکہ اس کے بعد افغانستان اور میزبان ٹیم آمنے سامنے آئیں گی۔ اسی طرح دو دو میچز کھیلنے کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر سب سے آگے رہنے والی دو ٹیمیں 7 ستمبر کو فائنل کھیلیں گی۔
یہ سہ ملکی مقابلے تینوں ٹیموں کے لیے نہ صرف عالمی سطح پر اپنی کارکردگی کو نکھارنے کا موقع فراہم کریں گے بلکہ ایشیا کپ جیسے بڑے ایونٹ سے پہلے بیٹنگ اور بولنگ کمبی نیشن کو پرکھنے کا بھی بہترین موقع ہے۔ دبئی اور ابو ظہبی میں ہونے والے ایشیا کپ سے قبل یہ سیریز ایک عملی ریہرسل کی حیثیت رکھتی ہے جس کے ذریعے کھلاڑی اپنی فارم اور ٹیمیں اپنی حکمتِ عملی کو مزید بہتر بنا سکیں گی۔
شارجہ کا میدان ایک بار پھر کرکٹ کے شائقین کے جوش و خروش کا مرکز بننے جا رہا ہے جہاں تین مختلف رنگوں کی کرکٹ ایک ہی پلیٹ فارم پر جلوہ گر ہوگی اور ہر روز نیا مقابلہ شائقین کو سنسنی خیز لمحات سے بھرپور تفریح فراہم کرے گا۔
