اسلام آباد: پاکستان کے لیے ایک تاریخی لمحہ، جب وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے اعلان کیا کہ پاکستان کو امریکا میں مچھلی کی برآمدات کی اجازت مل گئی ہے۔ یہ اجازت پاکستان کی سی فوڈ صنعت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی اور اسے عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا موقع فراہم کرے گی۔
وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے کہا کہ امریکا میں مچھلی کی برآمدات کی اجازت پاکستانی فشریز کی عالمی معیار کے مطابق کامیابی کا اعتراف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اجازت نہ صرف پاکستان کی سی فوڈ صنعت کے معیار کو اجاگر کرتی ہے، بلکہ پاکستانی مصنوعات کے لیے عالمی مارکیٹ میں مواقع کا دروازہ بھی کھولتی ہے۔
جنید انوار چوہدری نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی فشریز نے امریکی معیار پر پورا اُترنے کے لیے مسلسل محنت کی اور اس کا نتیجہ اب سامنے آ رہا ہے۔ امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستانی مچھلی اور دیگر سمندری مصنوعات عالمی معیار کے مطابق ہیں اور انہیں امریکا کی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
پاکستان کی مچھلی کی صنعت کی کامیاب ترقی کی بات کی جائے تو گزشتہ سال پاکستان نے 2.42 لاکھ ٹن مچھلی برآمد کی تھی، جس سے 489 ملین ڈالرز کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ اس کامیابی نے پاکستان کے اقتصادی حالات میں بہتری کی راہ ہموار کی۔ اب جبکہ امریکا سے برآمدات کی اجازت مل گئی ہے، آئندہ سال میں اس مقدار میں مزید اضافہ متوقع ہے اور پاکستانی مچھلی کی برآمدات 600 ملین ڈالرز تک پہنچنے کا امکان ہے۔
وزیر جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ اجازت پاکستانی معیشت کے لیے ایک نیا دور شروع کرنے کی علامت ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی مچھلی کی صنعت کو عالمی مارکیٹ میں مزید مواقع ملیں گے، بلکہ پاکستانی زرمبادلہ کی صورت میں مزید استحکام آئے گا۔ امریکا کی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی قبولیت سے پاکستانی برآمدات کو ایک نیا اور مستحکم راستہ ملے گا، جس سے ملک میں روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔
پاکستان کی فشریز کے لیے امریکا میں برآمدات کی اجازت ایک اور سنگ میل ہے۔ اس فیصلے سے پاکستان کی سی فوڈ صنعت کی عالمی سطح پر پذیرائی مزید بڑھ جائے گی۔ وزارت بحری امور نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ امریکا کے ساتھ اس تجارتی معاہدے کے نتیجے میں دیگر عالمی مارکیٹس میں بھی پاکستانی سی فوڈ کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستانی مچھلی کی صنعت کی ترقی سے نہ صرف مقامی معیشت کو فائدہ ہوگا بلکہ پاکستان کے دیگر صنعتی شعبوں کو بھی عالمی سطح پر ترقی کے نئے مواقع ملیں گے۔
وزیر جنید انوار چوہدری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستانی فشریز نے عالمی معیار پر پورا اُترنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کے ساتھ پاکستان کی فشریز کا تعاون مثالی رہا اور اس کے نتیجے میں پاکستانی مصنوعات کو امریکا کی مارکیٹ میں قدم رکھنے کی اجازت ملی ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف پاکستان کی سی فوڈ صنعت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کے معیار کے بارے میں غلط فہمیاں بھی دور ہوں گی۔
پاکستان کی مچھلی کی صنعت میں یہ نئی کامیابی عالمی سطح پر ترقی کے امکانات کو روشن کرتی ہے۔ امریکا میں مچھلی کی برآمدات کی اجازت کے بعد پاکستان کو دیگر مارکیٹس جیسے یورپ اور مشرق وسطیٰ میں بھی پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات بڑھانے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ، اس کامیابی کا اثر پاکستان کی دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات پر بھی پڑ سکتا ہے، جو عالمی مارکیٹس میں پاکستان کی موجودگی کو مزید مستحکم کرے گا۔
