پاکستان ہاکی ایک بار پھر مالی بحران کی زد میں ہے، اور اس بار ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل رانا مجاہد نے کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والے معاشی ناانصافیوں پر کھل کر بات کی ہے۔نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو میں رانا مجاہد نےانکشاف کیا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ صرف 400 روپے ڈیلی الاؤنس دیتا ہے اور اس معمولی رقم پر کوئی قومی کھلاڑی کھیلنے کو تیار نہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ 400روپے کے ڈیلی الاؤنس میں کوئی کھلڑی کیسے گزارا کرے گا؟ کھلاڑی محنت کرتے ہیں، ملک کے لیے کھیلتے ہیں، اور ہم ان کو یہ معمولی رقم دیں؟ یہ ناانصافی ہے۔رانا مجاہد نے مزید بتایا کہ فیڈریشن کھلاڑیوں کو 100 ڈالرز کے قریب ڈیلی الاؤنس دینے کی کوشش کرتی ہے، مگر اس پر بھی کھلاڑی مطمئن نہیں۔ انہوں نے فیڈریشن کی بدحالی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ
ہاکی فیڈریشن کے پاس تو اپنا اسٹیڈیم تک نہیں ہے، اور ہمیں اسپانسرز کی منتیں کرنی پڑتی ہیں،رانا مجاہد کے مطابق، پاکستان اسپورٹس بورڈ کو ہاکی فیڈریشن کے مالی معاملات پر اعتماد نہیں، جبکہ فیڈریشن اپنی مالیات کو قانونی دائرے میں رکھ کر چلاتی ہے۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ بیرونِ ملک دوروں میں بل ادا نہ کرنے کا معاملہ معمول بن چکا ہے
ایسا ایک بار ضرور ہوا، لیکن یہ روٹین میں نہیں ہوتا،سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ پاکستان میں ہاکی کے ڈپارٹمنٹل سسٹم کا خاتمہ کھلاڑیوں کے لیے بڑا دھچکا ہےہم نے کھلاڑیوں کو منتیں کر کے واپس لایا ہے۔ جب روزگار کا ذریعہ نہیں رہے گا تو کھلاڑی کھیلیں گے کیسے؟
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قومی ٹیم پرو لیگ میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کرے گی، جہاں دنیا کی ٹاپ 10 ٹیمیں میدان میں ہوں گی۔ اگرچہ ان کا ماننا ہے کہ چیمپئن بننا مشکل ہوگا، تاہم ٹیم بہتر نتائج کے لیے پُرعزم ہے۔رانا مجاہد نے اختتام پر زور دیا کہ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر ہاکی کو سہارا دینا ہوگا، کیونکہ فیڈریشن محدود وسائل کے باوجود اپنی بساط سے بڑھ کر کام کر رہی ہے۔
