عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے، جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین، روس اور شمالی کوریا پر امریکہ کے خلاف "سازش کرنے” کا الزام عائد کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ الزام ایسے وقت پر لگایا جب بیجنگ میں دوسری جنگ عظیم میں فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تاریخی فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا بھر کے 26 عالمی رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن بھی شامل تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر صدر شی جن پنگ کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے لکھاایسے میں جب آپ امریکہ کے خلاف سازش کر رہے ہیں، میری طرف سے ولادیمیر پوتن اور کم جونگ کے لیے نیک خواہشات
ٹرمپ کے یہ الفاظ عالمی سطح پر گونجنے لگے، کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سابق امریکی صدر نے تین طاقتور ممالک کو کھلے عام ایک مبینہ "سازشی اتحاد” کا حصہ قرار دیا۔
چین نے بدھ کے روز دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی جارحیت کے خلاف فتح کی 80ویں سالگرہ پر ایک عظیم الشان ملٹری پریڈ کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں پہلی مرتبہ صدر شی جن پنگ، ولادیمیر پوتن، اور کم جونگ اُن ایک ساتھ اسٹیج پر دکھائی دیے،ایک ایسا لمحہ جو سفارتی سطح پر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ صدر شی نے اپنے خطاب میں امن اور عالمی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہاچینی قوم کی تجدید کو نہیں روکا جا سکتا، اور انسانیت کا نصب العین امن اور ترقی رہے گا
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا ایک بار پھر "امن یا جنگ، مکالمے یا تصادم” جیسے اہم انتخاب کے موڑ پر کھڑی ہے۔
پریڈ سے قبل شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا دو روزہ اجلاس بندرگاہی شہر تیانجن میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان اور انڈیا سمیت 10 ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ یہ تنظیم،جو ابھرتی ہوئی علاقائی طاقتوں کو یکجا کر رہی ہے،امریکہ کے لیے ایک بڑھتا ہوا تزویراتی چیلنج سمجھی جا رہی ہے۔
اجلاس کے اختتام پر منعقد کی گئی فوجی پریڈ کو چین نے ایک "بین الاقوامی اتحاد اور طاقت” کے مظاہرے کے طور پر پیش کیا۔ خاص بات یہ رہی کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کا یہ چھ سالوں میں دوسرا غیر ملکی دورہ تھا، جو اس موقع کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا بیانیہ اور چین کی قیادت میں طاقت کا مظاہرہ ایک نئے جیو پولیٹیکل توازن کی عکاسی کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایک بار پھر سرد جنگ جیسے ماحول میں داخل ہو رہی ہے؟ یا یہ سفارتی کشیدگی عالمی تعاون کے کسی نئے راستے کی طرف اشارہ ہے؟
فی الوقت، دنیا دیکھ رہی ہےاور امریکہ، شاید، جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے۔
