ریاض ایک بار پھر کھیلوں کے بڑے ایونٹ کا مرکز بننے جا رہا ہے، جہاں 27 ستمبر کو پروفیشنل فائٹرز لیگ (PFL) کے "مینا سیمی فائنلز” منعقد ہوں گے۔ اسی ایونٹ میں سعودی عرب کی نامور کھلاڑی ایثار حیان اپنی پہلی ایمیچور مکسڈ مارشل آرٹس فائٹ میں کیج میں اتریں گی۔ یہ موقع اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ سعودی عرب کی دوسری خاتون فائٹر بنیں گی جو اس لیگ میں حصہ لیں گی۔
یہ نمائشی اسٹراؤ ویٹ فائٹ مصر کی معروف فائٹر مروہ "بیڈ کِٹی” عبدالمنعم کے خلاف ہوگی اور اس کا انعقاد ریاض کے "دی ایرینا” میں کیا جائے گا۔ اس مقابلے کو نہ صرف سعودی شائقین بلکہ پورے خطے میں خصوصی دلچسپی کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ خواتین کھلاڑیوں کے لیے یہ ایک بڑی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
ایثار حیان کا نام سعودی عرب میں مارشل آرٹس کے میدان میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ ایک عرصے سے تائیکوانڈو کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں اور کئی بین الاقوامی مقابلوں میں مملکت کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ گزشتہ سال 2024 کے سعودی گیمز میں انہوں نے 49 کلوگرام کی کیٹیگری میں سونے کا تمغہ جیت کر اپنی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کیا تھا۔
یہ سفر ان کے لیے آسان نہ تھا۔ ایثار حیان کے مطابق، "پی ایف ایل تک کا راستہ قربانیوں، درد اور مسلسل محنت سے بھرا ہوا ہے۔ زندگی کے کٹھن تجربات نے مجھے ایسا فائٹر بنایا ہے جو ہار ماننے پر یقین نہیں رکھتا۔ اب میں تیار ہوں کہ 27 ستمبر کو کیج میں قدم رکھوں، جہاں میرا مقصد صرف مقابلہ کرنا نہیں بلکہ ایک نیا باب شروع کرنا ہے۔”
ایثار حیان سے قبل ہٹن السیف پہلی سعودی خاتون تھیں جنہوں نے گزشتہ سال پروفیشنل فائٹرز لیگ میں حصہ لیا تھا۔ یوں حیان ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس نئے دور کا آغاز کر رہی ہیں جس میں سعودی خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ فائٹ اسپورٹس میں نظر آ رہی ہیں۔
ریاض میں ہونے والا یہ ایونٹ صرف خواتین فائٹ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں بینٹم ویٹ، فیذر ویٹ، لائٹ ویٹ اور ویلٹر ویٹ کیٹیگریز کے سیمی فائنل مقابلے بھی شامل ہوں گے۔ فاتح فائٹرز کو پی ایف ایل مینا چیمپئن شپ گولڈ کے مزید قریب آنے کا موقع ملے گا۔
شائقین اس ایونٹ کو براہِ راست اسٹارز پلے پر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں دیکھ سکیں گے جبکہ امریکہ میں یہ نشریات پی ایف ایل ایپ کے ذریعے دستیاب ہوں گی۔ اس طرح یہ مقابلہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی سطح پر بھی بڑی تعداد میں دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔
ایثار حیان کی یہ شروعات سعودی خواتین کھلاڑیوں کے لیے ایک سنگ میل ہے۔ ان کی ہمت، لگن اور کامیابیاں مملکت میں کھیلوں کے بدلتے منظرنامے کی ایک جیتی جاگتی مثال ہیں، اور ان کا یہ قدم شاید آنے والے برسوں میں مزید خواتین کے لیے کھیلوں کے دروازے کھول دے۔
